امام حسین علیہ السلام پر انبیاء کرام کا گریہ ۔

سوال ۔ 

السلام علیکم ورحمة اللہ ۔ کیا باقی انبیاء علیہم السلام نے بھی امام حسین علیہ السلام پر گریہ کیا جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے گریہ فرمایا ہے ؟ 

جواب

وعلیکم السلام ورحمة اللہ ۔ بہت ساری روایات وارد ہوئی ہیں جس میں بیان ہوا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے امام حسین علیہ السلام پر گریہ فرمایا ہے ۔ ہم ان روایات میں سے کچھ ذکر کرتے ہیں جن کو علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار ج 44 ص 242 ۔247  میں ذکر کیا ہے ۔ 

جناب آدم اور امام حسین علیہم السلام  

 تفسیر الدرالثمین والے نے اس آیت ( فتلقی آدم من ربہ کلمات ) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ جناب آدم نے عرش پر نبی اعظم اور ائمہ اطہارعلیہم السلام  کے نام دیکھے ۔ جناب جبرائیل نے جناب آدم کو تعلیم دی کہ " یا حمید بحق محمد ، یا عالی بحق علی یا فاطر بحق فاطمہ ، یا محسن بحق الحسن و الحسین و منک الاحسان " ۔ جب امام حسین علیہ السلام کا نام آیا تو جناب آدم رونے لگے اور ان کا دل غمزدہ ہو گیا تو جناب آدم نے جبرائیل سے کہا ائے بھائی جب پانچویں کا نام آیا تو میرا دل غمگین ہوا اور میرے آنسو جاری ہو گئے تو جناب جبرائیل نے فرمایا کہ آپ کے اس بیٹے پر اتنی مصیبت آئے گی کہ جس کے مقابل ہر مصیبت کم ہو گی ۔ 

جناب آدم نے کہا وہ کونسی مصیبت ہے ؟ جناب جبرائیل نے فرمایا ان کو پیاسہ شہید کر دیا جائے گا ۔ اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا اگر اپ اس کو دیکھتے کہ وہ پیاس پیاس کی صدائیں بلند کر رہے ہیں اور ھل من ناصر کی صدائیں بلند فرما رہے ہیں اس کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے بلکہ اس کو تلواروں سے جواب دیا جا رہا ہے ۔ اس کو پس گردن شہید کر دیا گیا ہے اور اس کا مال و اسباب لوٹ لیا گیا ہے ۔ 

ان کے اور ان کے انصار و مددگاروں کے سر نیزوں پر اٹھائے جا چکے ہیں ۔ ان کی خواتین بھی ان کے ساتھ ہیں ۔ اور یہی بات اللہ واحد کے علم میں ہے ۔ پس جناب آدم اور جبرائیل علیہما السلام نے بہت گریہ فرمایا ۔ 

جناب آدم کی پھر امام حسین علیہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے جب آپ ایک گروہ کی شکل میں زمین پر نازل ہوتے ہیں اور کربلاء سے گزرتے ہیں تو جناب آدم غمگین اور دل گیر ہو جاتے ہیں آسمان کی طرف نگاہیں بلند کر کے اللہ سے کہتے ہیں کہ مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوا جس کی آپ نے مجھے سزا دی ہے ؟

کیونکہ میں نے ساری زمین کی سیر کی ہے لیکن کہیں بھی مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا جو اس زمین پہ ہوا ہے تو اللہ نے جناب آدم کو وحی فرمائی کہ ائے آدم تجھ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا لیکن اس زمین پہ آپ کے بیٹے امام حسین کا  مظلومانہ قتل ہو گا جس کے خون کی موافقت میں آپ کا بھی خون بہا 

جناب نوح اور امام حسین علیہ السلام 

روایت میں ہے کہ جناب نوح جب کشتی پر سوار ہوئے تو پوری دنیا کا چکر لگایا جب کربلاء سے گزرے تو زمین نے اپ کی کشتی کو روک لیا اور جناب نوح غرق ہونے سے ڈر گئے ، پس اللہ سے دعا فرمائی اور کہا ، ائے اللہ میں نے ساری دنیا اس کشتی پر گھومی ہے لیکن مجھے کہیں بھی خوف اور ڈر محسوس نہیں ہوا جو اس زمین پر محسوس ہو ر 

تو جناب جبرائیل اترے اور کہا ائے نوح اس زمین پر جناب محمد خاتم الانبیاء کے فرزند جناب امام حسین علیہم السلام کو شہید کیا جائے گا تو جناب نوح نے کہا ائے جبرائیل ان کو کون قتل کرئے گا ؟ جبرائیل نے کہا ان کا قاتل سات آسمانوں اور سات زمینوں کا لعین ہو گا پس جناب نوح نے بھی ان پر چار بار لعنت کی تو کشتی چلنے لگی اور جودی پہاڑ تک پہنچ گئی ۔ 

جناب ابراھیم اور امام حسین علیہ السلام پر گریہ 

امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالی نے جناب ابراھیم کو اپنے بیٹے اسماعیل کی جگہ مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا تو وحی فرمائی کہ ائے ابراھیم تجھے میری مخلوق میں سے کون سب سے زیادہ پسند ہے ؟ تو جناب ابراھیم نے فرمایا مجھے تیری مخلوق میں سے جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سب سے زیادہ محبوب ہیں ، پھر وحی فرمائی جناب محمد زیادہ محبوب ہیں کہ تیرا نفس تجھے زیادہ عزیز ہے ؟ جناب ابراھیم نے جواب دیا بلکہ وہ مجھے میرے نفس سے بھی زیادہ عزیز ہیں 

پھر وحی فرمائی کہ اس کی اولاد زیادہ عزیز ہے یا تیری اپنی اولاد ؟ تو فرمایا ان کی اولاد زیادہ عزیز ہے ۔ تو اللہ نے فرمایا ائے ابراھیم ایک گروہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کا امتی ہے حالانکہ وہ ان کے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو ظلم و جور سے پس پشت قتل کرئے گا ، جس کے بعد وہ میرے عذاب کے مستحق ہوں گے ، یہ سن کر جناب ابراھیم غمزدہ ہوئے اور ان کا دل غمگین ہو اور گریہ کرنے لگے 

جناب موسی علیہ السلام اور امام حسین کے قاتلوں پر لعنت 

روایت میں ہے کہ ایک دن جناب موسی جا رہے تھے اور ان کے ساتھ یوشع بن نون بھی تھے ، جب آپ کربلاء پہنچے تو ان کے جوتے ٹوٹ گئے ، اور آپ کے پاوں میں کانٹے چبھ گئے ، اور خون بہنا شروع ہو گیا ، تو آپ نے فرمایا ائے اللہ مجھ سے کیا سرزد ہو گیا ؟ تو اللہ نے وحی فرمائی کہ اس جگہ امام حسین شہید ہوں گے ، یہاں ان کا خون بہایا جائے گا لذا ان کے خون کی موافقت میں تیرا بھی خون بہا ہے ۔ پس جناب موسی نے اپنے ہاتھ بلند فرمائے اور یزید پر لعنت کی ،اور ان کے خلاف دعا فرمائی اور یوشع بن نون نے امین کہا

جناب عیسی علیہ السلام کا امام حسین علیہ السلام کے قاتل پر لعنت کرنا

روایت میں ہے کہ جناب عیسی علیہ السلام اپنے حواریوں سمیت ایک بار صحراء سے گزر رہے تھے کہ وہ کربلاء سے گزرے تو راستے میں ایک شیر کو دیکھا جناب عیسی آگے بڑھے اور شیر سے کہا تم یہاں راستہ روک کر کیوں بیٹھے ہو ؟

تو شیر نے فصیح زبان میں کہا میں اس وقت تک تمہیں یہاں سے نہیں جانے دوں گا جب تک تم لوگ امام حسین کے قاتل یزید پر لعنت نہیں کرو گے ۔ پس جناب عیسی نے ہاتھ بلند فرمائے اور یزید پر لعنت کی اور اس کو بدعا دی اور حواریوں نے امین کہا اور شیر ایک طرف چلا گیا اور وہ اپنے راست پہ ہو لیے

جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کا امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنا 

 امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے بعد جناب ام الفضل رسول اکرم کے پاس آتی ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ گریہ کر رہے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ یہ گریہ کس لئے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جناب جبرائیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت میرے اس بیٹے حسین کو شہید کرئے گی  

جناب رسول اکرم کا اپنے فرزند امام حسین پر گریہ کرنے کے بارے کوئی بھی اختلاف نہیں ہے ، تاریخ اور سیرت کی بہت ساری کتابوں میں یہ بات مذکور ہے  جیسے ابن سعد نے الطبقات میں اور ابن عساکر اور ابن کثیر نے اپنی اپنی کتابوں میں اس کا ذکر  رہے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ یہ گریہ کس لئے ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جناب جبرائیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت میرے اس بیٹے حسین کو شہید کرئے گی  

جناب رسول اکرم کا اپنے فرزند امام حسین پر گریہ کرنے کے بارے کوئی بھی اختلاف نہیں ہے ، تاریخ اور سیرت کی بہت ساری کتابوں میں یہ بات مذکور ہے  جیسے ابن سعد نے الطبقات میں اور ابن عساکر اور ابن کثیر نے اپنی اپنی کتابوں میں اس  کیا ہے 

Follow this blog for more Islamic Information

https://alrasd11.blogspot.com/

Comments