وھابی مسلمان کو کافر سمجھتے ہیں


سوال 

کیا یہ صحیح ہے کہ جس نے اہلسنت کے کسی آدمی کو قتل کیا اسے اجر اور ثواب ملے گا اور وہ جنت میں جائے گا ۔ ؟ 

 کیا اہلسنت کے نزدیک شیعہ کا خون بہانا مباح  ہے ؟  

جواب  

ہمارے فقہاء میں سے کوئی بھی ایک مسلمان کے قتل کو جائز قرار نہیں دیتا ۔ بلکہ کسی مسلمان کو قتل کرنا گناہان کبیرہ میں سے ہے جس کا ارتکاب کرنے والا  جہنم کے عذاب کا مستحق ہو گا ، اسی طرح اہلسنت کے نزدیک شیعہ کا قتل کرنا بھی حرام ہے

جو بھی خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے اس کو کافر کہنے والا خود اس کا جواب دہ ہے کیونکہ قران اور سنت اس سے منع کرتے ہیں  

اللہ تعالی فرماتا ہے  

 يا أيّها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبيّنوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمناً تبتغون عرض الحياة الدنيا

 اے ایمان والو! جب تم راہ خدا میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو، تم دنیاوی مفاد کے طالب ہو)

الواحدي نے  (أسباب النزول ص115) پر کہا ہے کہ ہمیں أبو إبراهيم إسماعيل بن ابراهيم الواعظ نے خبر دی ۔ اس نے کہا ہمیں  أبو الحسين محمد بن أحمد بن حامد  نے خبر دی ۔ اس نے کہا ہمیں أحمد بن الحسين بن عبد الجبار نے خبر دی ۔ اس نے کہا ہمیں  محمد بن عباد نے خبر دی ۔ اس نے کہا ہمیں  سفيان عن عمرو، نے  عطاء، سے ،  ابن عباس سے خبر دی ۔ کہ مسلمانوں نے جنگ میں ایک آدمی کو اس کی غنیمت کے ساتھ دیکھا ، اس نے مسلمانوں پر سلام کیا ، لیکن مسمانوں نے اس کو قتل کر دیا اور اس کی غنیمت لوٹ لی ۔ تو یہ آیت  (( ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمناً تبتغون عرض الحياة الدنيا )( یعنی وہ غنیمت کے لئے قتل کرتے ہین ۔ ) نازل ہوئی ۔ 

اس روایت کو  البخاري نے علي بن عبد الله،سے  اور  مسلم نے  أبي بكر بن أبي شيبة،  سے اور ان دونوں نے  سفيان سے روایت کیا ہے ۔ 

الواحدي نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ  قبیلہ سلیم کا ایک آدمی اصحاب رسول کے پاس سے گزرا اور اس نے سلام کیا تو بعض نے کہا یہ صرف آپ لوگوں سے بچنے کے لئے سلام کر رہا یے ۔تو انہوں نے اسے قتل کر دیا اور غنیمت لے لی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کے پاس ائے ۔ 

تو یہ ایت نازل ہوئی  

يا أيّها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبيّنوا

السیوطی کی  الدر المنثور ج2 ص 201) میں ہے کہ  ابن جرير ، ابن المنذر اور ابن أبي حاتم نے  ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ابن عباس نے اس ایت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ تعالی نے مومنین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی گواہی دینے والے کو مومن نہ کہیں ۔ جیسے اللہ نے مردار حرام قرار دیا ہے ۔ 

بلکہ اس کی جان و مال محفوظ ہے اور اس کا یہ کہنا کہ وہ مسلمان ہے جھٹلایا نہیں کیا جائے گا ۔ 

الجصاص کی (أحكام القرآن/  ج2 ص361)  میں ہے کہ رسول اکرم  (صلى الله عليه وآله)نے فرمایا کہ تم گمان سے بچو یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔  

اور یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالی کسی کے ضمیر اور اعتقاد کے علم کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ ایمان کے لئے  اس کے ظاہری قول اور فعل کو حجت سمجھتا ہے 

 اسی لئے تو فرمایا 

 ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمناً  

اور یہ بات تمام کافروں کو شامل ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ نے اسامہ بن زید سے فرمایا ، جب اس نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ۔( کیونکہ اسامہ نے کہا اس نے صرف اپنے بچاو کی خاطر ایسا کہا ہے)  ۔ تو آپ نے فرمایا کیا آپ نے اس کا دل چیر کر دیکھا ہے ۔ 

(فقه السنة/  ج2 ص596) میں ہے کہ جنگ کے میدان میں اگر کوئی اپنی زبان پر سلام علیکم جاری کر دے تو اس کو قتل کرنا منع ہے ۔کیونکہ اللہ فرماتا ہے (( ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمناً )). 

لہذا آپ کا اس کے بارے کیا خیال ہے جو شہادتین پڑھتا ہے اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ؟ 

نماز و روزہ بجا لاتا ہے حج و زکات اور باقی فروعات انجام دیتا ہے ؟ تو کیا کسی مسلمان کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اسلام کا دعوی کرنے والے کو کافر قرار دے یا اس کا قتل کرئے یا س کا مال و اسباب مباح سمجھے اور اس کی  اولاد کو قیدی بنا لے ۔  ؟  

معصومین علیہم السلام کی روایات میں مسلمان کی تکفیر کرنا اور اس سے لڑائی کرنے کی شدید مخالفت وارد ہوئی ہے ۔ ہم ان میں سے بعض روایات کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

1- رسول اکرم (صلى الله عليه وآله)  نے فرمایا ۔ مسلمانوں کو کافر قرار نہ دو اگرچہ وہ گناہ کبیرہ کا بھی ارتکاب کریں ۔

2- آپ  (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا مسلمانوں میں سے کسی کو اس کے گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دو اگرچہ وہ گناہ کبیرہ ہی کیوں  نہ کریں  یعنی گناہ کبیرہ عقاب کا سبب تو ہے لیکن کفر کا موجب نہیں ہے ۔ 

3- آپ  (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا ۔ اسلام کی بنیاد ان چیزوں پر ہے ۔لا الہ الا اللہ کی شہادت ۔ محمد رسول اللہ کی شہادت۔اور رسول  اکرم جو کچھ اللہ کے پاس سے لائے ہیں ان کا اقرار ۔ اور جب سے اللہ نے اپنے رسل بھیجے ہیں جہاد کو بھی واجب قرار دیا ہے ۔ پس تم کسی کو اس کے گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہ دو اور نہ ان کے خلاف شرک کی گواہی دو ۔  

8- رسول اکرم  (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا کسی بھی مسلمان نے دوسرے مسلمان کو کافر قرارد دیا تو اگر وہ واقعی کافر ہوا تو ٹھیک ورنہ کہنے والا خود کافر ہو گا ۔ 

البخاري میں (ص 1226 ج 6938  الزهري  سے روایت ہے کہ اس نے کہا مجھے   محمود بن الربيع نے خبر دی کہ میں نے  عتبان بن مالك سے کہتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم   (صلى الله عليه وآله)، دوپہر کے وقت میرے پاس تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا مالك بن الدخشن  کہاں ہے ؟ تو ہم سے ایک ادمی نے کہا وہ تو منافق ہے اللہ اور اس کا رسول اس کو پسند نہیں کرتے ۔ 

تو رسول اکرم نے فرمایا کیا تم اس کی تاویل نہیں کر سکتے کہ وہ لا الہ اللہ کہنے سے اللہ کی رضا چاہتا ہے ۔ تو انہوں نے کہا جی ایسا ممکن ہے ۔تو آپ نے فرمایا کہ انسان کو اس کلمہ کی جزاء قیامت کے دن اگ سے چھٹکارا ہو گی ۔  

البخاري میں ابن ظبيان سے روایت ہے کہ میں نے  أسامة بن زيد بن حارثة  سے سنا کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ نے ایک گروہ کے ساتھ جنگ کے لئے بھیجا اور ہم نے انہیں شکست دی ، میں اور انصار میں سے ایک آدمی نے ، ان کے ایک آدمی کا پیچھا کیا  ۔ جب ہم اس تک پہنچ گئے تو اس نے کہا لا الہ الا اللہ ۔ تو انصاری نے اس کو چھوڑ دیا لیکن میں نے اس پر وار کر دیا اور قتل کر دیا ۔ جب ہم واپس آئے اور رسول اکرم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا ائے اسامہ تم نے اس کو قتل کیا جب اس نے لا الہ الا اللہ کہا ؟ تو میں نے کہا وہ صرف ہم سے بچنا چاہتا تھا ۔ تو آپ نے پھر کہا ، کیا تم نے اس کو کلمہ پڑھنے کے بعد قتل کیا ۔ اور آپ نے یہ الفاظ کئی بار دھرائے یہاں تک کہ مجھے لگا کہ میں اس سے پہلے  ایمان بھی نہیں لایا تھا ۔ (ص1215 ح6872 ۔

الزهري نے  عطاء بن يزيد سے ،  اس نے  عبيد الله بن عدي  سے ، اس نے  المقداد بن عمرو الكندي، جو بنی زھرة کا حلیف ہے اور جنگ بدر میں  رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کے ساتھ تھا ۔ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں نے رسول اکرم سے پوچھا  اگر میری ملاقات کسی کافر سے ہو جاتی ہے اور ہم لڑ پڑتے ہیں ۔  اس نے تلوار کے ایک وار دے میرا بازو قلم کر دیا   ۔ پھر درخت کی پیچھے  چھپ گیا اور کہا میں اسلام لایا ہوں ۔ تو کیا میں اس کو یہ کہنے کے بعد قتل کر سکتا ہوں ؟  رسول اکرم نے فرمایا اس کق قتل نہ کرو ۔ راوی نے کہا ائے اللہ کے رسول اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹنے کے  بعد کلمہ شہادت پڑھا ۔  تو کیا میں اس کو قتل کر سکتا ہوں ؟ تو آپ نے فرمایا پھر بھی اس کو قتل نہ کرو ۔ اگر قتل کرو گے تو تم اس کی اس جگہ پہ ہوں گے جب اس نے کلمہ نہیں پڑھا تھا ( یعنی کافر بن جاو گے ) ۔ اور وہ تمہاری اس جگہ پہ ہو گا جب تم نے  اس کو قتل نہیں کیا ( یعنی مسلمان ہو گا ) ۔  (راجع صحيح البخاري ص 1214 ج6865 

قابل توجہ بات یہ ہے کہ بخاری نے شہادتین پڑھنے والے کافر پہ ایمان کی صفت لگائی ہے کیونکہ اس نے اس حدیث کو مومن کے قتل کرنے کے باب میں درج کیا ہے ۔ 

البخاري کی (كتاب الزكاة ص 47) ، مسلم (7 / 171 ح 1064) ، أحمد نے اپنی  المسند (4 / 10 ح 11008) اور  أبي يعلي نے اپنی  مسند (390 ـ 391 ح 1163) میں روایت کی ہے کہ جب  ذو الخويصرة نے رسول اعظم (صلى الله عليه وآله) کو مخاطب کر کے کہا ائے محمد عدل سے کام لو تو محفل نبوی میں شور برپا ہوا اور خالد بن ولید نے کہا ائے اللہ کے رسول اگر آپ اجازت دیں تو اس کی گردن اڑا دوں ؟ ۔

تو رسول اکرم نے فرمایا ہو سکتا ہے نماز پڑھتا ہو ۔ تو خالد بن ولید نے کہا کچھ نماز پڑھنے والوں کے دل میں وہ نہیں ہوتا جو ان کی زبان پہ ہوتا ہے ۔ تو رسول اکرم نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں میں جھانکنے اور ان کے پیٹ  چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا 

ان روایات میں واضح طور پہ اھل قبلہ اور شہادتین کو پڑھنے والے کو کافر قرار دینے سے منع کیا گیا ہے ۔ اور اختلاف اور ادنی گناہ کی وجہ سے کسی کو کافر کہنے سے روکا گیا ہے ۔

علماء نے بھی اھل قبلہ اور شہادتین پڑھنے والے کو کافر قرار دینے کے خلاف فتاوی دئے ہیں ۔ ابن حزم نے کہا ہے کہ  : (( علماء کی ایک جماعت نے نے کہا ہے کہ کسی مسلمان کو اس کے عقیدے یا فتوی کی وجہ سے کافر یا فاسق قرار نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ جو کوئی اجتہاد کرتا ہے وہ اس کا مسئول ہے ۔ اور اس نے اسی کو حق سمجھا ہے 

اگر واقع کے مطابق ہوا تو اس کو دو اجر ملیں گے ۔ اور اگر واقع کے مطابق نہ ہوا تو اس کے لئے صرف ایک اجر ہے ۔  ابن أبي ليلى ، أبي حنيفة ، الشافعي ، سفيان الثوري اور داود بن علي کا بھی یہی قول ہے ۔ اور یہی قول ان صحابہ کا بھی ہے جنہوں نے اس مسئلے میں گفتگو کی ہے ۔ ان میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف ظاہر نہیں ہوا ۔ )).(الفصل بين الملل والنحل 3 / 247) .

  شعرانی کی کتاب (اليواقيت والجواهر/  ص58) :  میں ہے کہ ( شيخ الإسلام تقي الدين السبكي : نے کہا ہے کہ مومنین کو کافر قرار دینا بہت مشکل ہے ۔ جس کے بھی دل میں ایمان ہے وہ اھل بدعت اور خواہش نفس کی پیروی کرنے والے اھل قبلہ کو کافر قرار دینے میں ہچکچاتا ہے ۔  کیونکہ کسی کو کافر قرار دینا عظیم جرم ہے ۔  )

اور اسی کتاب میں ہے کہ : أحمد بن زاهر السرخسي الأشعري (جو  الإمام الاشعري کے جلیل القدر اصحاب  میں سے ہے ) نے کہا ہے کہ بغداد میں  میرے گھر جب  الشيخ أبا موسى الأشعري کی وفات کا وقت آیا  تو مجھے اپنے ساتھیوں کو جمع کرنے کا حکم دیا ۔ جب سب جمع ہو گئے تو انہوں نے کہا گواہ رہنا میں نے کسی اھل قبلہ کو اس کے گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیا ، کیونکہ وہ سب ایک معبود کی عبادت کرتے ہیں اور اسلام ان سب کو شامل ہے ۔ ).

القاضي الايجي نے (المواقف 392 ـ 394) :میں کہا ہے کہ  (( تمام متکلمین اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ اھل قبلہ میں سے کسی کو کافر قرار نہ دیا جائے )) .

تفتازانی کی  (شرح المقاصد/ 5 / 227 ـ 228) میں ہے کہ (( اھل قبلہ میں سے دوسرے فرقہ کا کوئی آدمی  اس وقت تک کافر نہیں ہے جب تک ضروریات دین کا انکار نہ کرئے ۔ جیسے عالم کے حدوث اور جسم کے معاد کا عقیدہ ہے ۔ جو کہ ضرویات میں سے ہیں ۔ 

اس نے مزید کہا  المنتقى میں  أبي حنيفة  سے ہے کہ اھل قبلہ میں سے کسی کو بھی کافر قرار نہیں دیا جا سکتا اور اکثر فقہاء نے بھی یہی کہا ہے ۔ 

ابن عابدین کی کتاب رد المحتار/  4 : 237) میں ہے کہ ( البتہ اھل مذہب اکثر ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں لیکن یہ فقہاء کا فتوی نہیں ہے  بلکہ ان کے غیر ایسا کہتے ہیں ۔ لیکن فقہاء اور مجتہدین کے سوا کسی دوسرے کے قول کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔  ) .

بلکہ ابن تیمیہ نے رسالہ الاستغاثہ ص 12 پر لکھا ہے کہ اہلسنت کا اتفاق ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کی شفاعت کریں گے ۔ اور یہ بھی اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ اھل توحید میں سے کسی کو بھی ہمیشہ کے لئے جہنم میں نہیں رکھا جائے گا  ۔ 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ابن تیمیہ کی مراد اھل توحید سے کوئی الگ اور پیچیدہ مفہوم ہے بلکہ وہی مفہوم مراد ہے جو رسول اکرم کی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اھل توحید سے مراد شہادتین کی گواہی دینے والا عبادات بجا لانے والا اور ضروریات کا انکار نہ کرنے والا ہے ۔  ۔ .

  الامام الشافعي نے اپنی کتاب  (كتاب الأم 7 / 266 ـ 297) میں کہا ہے کہ اللہ تعالی نے رسول اکرم پر کافروں کے ساتھ جنگ اس لئے فرض کی کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اظہار کریں ۔ اور جب انہوں نے اس کا اظہار کر دیا تو آپ نے ان کے خون و مال کو حرام قرار دیا ۔ 

لہذا وھابی فرقہ کے پاس مسلمانوں اور اھلبیت کے پیروکاروں کو کافر قرار دینے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ .سوائے چند شبہات کے جو ان کے مریض ذہنوں کی اختراع ہیں ۔ 

جس کی وجہ سے اولیاء سے توسل کرنے پر مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں ۔ صرف قبور کی زیارت کرنے پر کافر کا فتوی لگاتے ہیں ۔ اور ضریح مقدس پر دعا مانگنے پر کافر قرار دیتے ہین ۔  اس قسم کی اور بھی امور ہیں جن کے جواز  پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔کیونکہ قران اور سنت سے ان کے جواز پر دلیلیں موجود ہیں ۔لیکن وھابیوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا یے ۔

اگر اپ یہ چاہتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو علوی کے علاوہ جابر سے خود رسول اکرم سے نقل نہیں کیا ۔تو یہ درست نہیں ہے ۔ 

کیونکہ فقیہ  أبو محمّد جعفر بن أحمد الإيلاقي نے اس حدیث کو دو طریقوں سے اعمش ، سے عاصم ، سے جابر سے  روایت کیا ہے کہ ہمیں  أبو محمّد الهروي جعفر بن أحمد بن محمّد التلعكبري(رحمه الله)، نے ، ان سے  أحمد بن محمّد بن سعيد نے ، ان سے  محمّد بن عبيد بن عتبة الكندي، ان سے  عبد الرحمن بن سويد، نے اپنے والد سے  ،  الأعمش، سے  عاصم بن عمرو، سے  جابر بن عبد الله، سے روایت کی ہے کہ  رسول الله (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا (عليّ خير البشر، من شكّ فيه فقد كفر) ))(5).

دوسرا طریقہ ۔ کہ ہم سے  علي بن محمّد بن علي بن الحسن بن بكير البسطامي نے ۔، محمّد بن يعقوب بن إسحاق سے ، اس نے  أحمد بن مخلّد، سے  اس نے أحمد بن يحيى،سے  أحمد بن محمّد الخوارزمي، سے اس نے  أبي حفص الأعشى، سے اس نے  الأعمش، سے  عاصم بن عمرو، سے  جابر بن عبد الله، سے روایت کی کہ   رسول الله (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا  (عليّ خير البشر، من شكّ فيه فقد كفر) ))(6).

اس حدیث کو ابن الجوزي نے اور طریق سے  الأعمش، سے ،  أبي سفيان، سے ، جابر، سے روایت کیا ہے ۔ ابن جوزی کہتا ہے ہم سے   إبراهيم بن دينار الفقيه نے ، أبو علي محمّد بن سعيد بن نبهان سے ،  أبو علي الحسن بن الحسين بن دوما سے ، أحمد بن نصر الذارع سے ،  صدقة بن موسى سے ،  انہسں نے اپنے والد سے  أبي ، يحيى بن يعلى سے ،  الأعمش سے ،  أبي سفيان سے ، جابر سے روایت کی ہے کہ رسول الله(صلّى الله عليه وسلم) نے فرمایا (عليّ خير البشر، فمن أبى فقد أبى(7) كفر) ))(8).

اگر خطیب بغدادی کا یہ ارداہ ہے کہ یہ روایت بہت سارے طرق سے  عطية العوفي نے  جابر سے ،  اور سالم بن أبي الجعد وعبد الرحمن بن أبي ليلى وأبي الزبير ، نے موقوفا  جابر  سے نقل کی ہے جیسا کہ (فضائل الصحابة)(9)، و(المصنّف)(10)، و(فوائد الصوّاف)(11)، و(الثقات)(12)، و(الكامل)(13)، و(تاريخ مدينة دمشق)(14)، و(أنساب الأشراف)(15)، و(نوادر الأثر)(16)، میں وارد ہوا یے تو یہ درست ہے ۔

لیکن یہ حدیث مختلف طرق سے خود جابر سے نقل ہوئی ہے ۔ لہذا جابر سے مرفوعا بھی روایت ہونا رسول اکرم سے اس روایت کی اسناد کے منافی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ ثابت کرتا یے کہ جابر نے خود رسول اکرم (صلى الله عليه وآله) سے سنا ، اور جابر ہر مناسبت پر اس کا ذکر کرتے اور اس حدیث کو دہراتے تھے ۔ 

اس دلیل وہ روایت ہے جو ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں أحمد بن سعيد بن عقدة سے نقل کی ہے کہ ہمیں  محمّد بن أحمد بن الحسن القطواني نے خبر دی ، ان کو  إبراهيم بن أنس الأنصاري نے ، ان کو  إبراهيم بن جعفر بن عبد الله بن محمد بن مسلمة نے ،  ان کو أبي الزبير نے  جابر بن عبد الله سے خبر دی کہ جابر نے کہا ہم رسول اکرم کے پاس تھے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام تشریف لائے  ، تو رسول اکرم (صلّى الله عليه وسلّم) نے فرمایا کہ میرا بھائی آیا ہے ۔ پھر اپ کعبی کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا ہاتھ کعبہ پہ رکھ کر فرمایا ( مجھباس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میری جان ہے یہ علی علیہ السلام اور اس کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہوں گے ۔ یہ تم میں سھ سب سے پہکے مجھ پر ایمان لائے ۔ اللہ کا عہد سب سے زیادہ وفا کرنے والے ۔ اللہ کے امر میں زیادہ قوی ۔ رعیت میں زیادہ عدل کرنے والے ۔ اور رم میں سے زیادہ مساوات قاجم کرنے والے ۔ اور اللہ کے نزدیک زیادہ مقام رکھنے والا ہے  ۔ 

تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ (( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُم خَيرُ البَرِيَّةِ )) (البينة:7)، 

اس کے بعد اصحاب رسول جب بھی علی کو دیکھتے تو کہتے کہ خیر البریہ تشریف لائے ہیں ۔ ))(17). اس روایت کو   الحاكم الحسكاني نے  اپنی کتاب شواہد میں اور سند کے ساتھ  أبي الزبير سے نقل کیا ہے ۔

اگر خطیب یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس حدیث کو جابر کے علاوہ کسی نے بھی فسول اکرم صلی اللہ علیہ ولالہ سے نقل نہیں کیا ۔ تو یہ جزما باطل ہے ۔ کیونکہ ہم اس حدیث کے امیرالمومنین  ، حذيفة بن اليمان، عبد الله بن مسعود، عائشة، أبي سعيد الخدري،  بريدة اور سلمان الفارسي.کے طرق ذخر کریں گے ۔

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ خطیب بغدادی نے خود اپنی اسناد سے اس حدیث کو عبداللہ سے بقل کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ نے فرمایا کہ تمہارے مردوں میں سے افضل امخرالمومنین علیہ السلام ہین ۔ 

)(19) 

ایک اور حدیث دوسرے اسناد کے ساتھ  عبد الله، سے علی (عليه السلام)،  سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا جس نے یہ نہیں کہا کہ علی لوگوں سے افضل ہیں اس نھ کفر کیا ۔ 

(20)،

اس سند کے تمام راوی ثقہ اور عادل ہیں ۔ لیکن محمد بن کثیر الکوفی میں کلام ہے ۔ ابن معین جو کہ جرح و تعدیل کا امام ہے نے محمد بن کثیر الکوفی کو ثقہ کہا ہے ۔(21).


ثانياً :  ابن عساكر (ت571هـ) نے اپنی  (تاريخ مدينة دمشق) میں  خيثمة بن سليمان الأطرابلسي، کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ جب میں أبو محمّد بن الأكفاني کے پاس پڑھتا تھا تو اس نے ہمیں خبر دی کہ  علي بن الحسين بن أحمد بن صصرى،  نے خبر دی اس نے  تمّام بن محمّد، أنا خيثمة بن سليمان، سے ۔ اس نے  أبو إسحاق إبراهيم بن سليمان بن حرارة النهمي سے ، اس نے   الحسن بن سعيد النخعي ابن عمّ شريك سے ، اس نے شريك بن عبد الله سے ، اس نے  أبي إسحاق سے ، اس نے  أبي وائل شقيق بن سلمة سے ، اس نے حذيفة بن اليمان سے ، نقل کیا ہے کہ رسول الله(صلّى الله عليه وسلّم) نے فرمایا : (عليّ خير البشر، من أبى فقد كفر) )).

ابن عساكر نے کہا کہ   الحسن بن سعيد  جو اس حدیث کے راویوں میں سے ہے نے اسی طرح روایت کی ہے اور وہ الحر ہے ۔

ہمیں  أبو القاسم الواسطي نے ،  أبو بكر الخطيب سے ، اس نے  الحسن بن محمّد بن الحسن الخلال سے ، اس نے أحمد بن محمّد بن عمران سے ، اس نے  أبو الحسن علي بن الحسن بن شقير الهمداني بالكوفة سے ، اس نے أبو العبّاس أحمد بن العبّاس المقرئ مولى بني هاشم سے ، خبر دی ہے کہ  میں نے  الحرّ بن سعيد النخعي سے کہا کہ اپ لوگوں  سے  شريك بن عبد الله نے ،  أبي إسحاق السبيعي سے ،  شقيق بن سلمة سے ،  حذيفة بن اليمان سے ، روایت بیان کی ہے کہ  حذیفہ نے کہا میں نے رسوپ اکرم (صلّى الله عليه وسلّم) سے سنا کہ اپ نے فرمایا (عليّ خير البشر، من أبى فقد كفر)؟ تو ا سنے جواب دیا جی ہاں ہمیں  شريك بن عبد الله.نے روایت کی ہے ۔ 

الخطیب البغدادی نے کہا کہ اس حدیث کو شریک سے الحر بن سعید کے علاوہ کسی نے بھی نقل نہیں کیا ۔ اور صرف الحر نے اس حدیث کو مرفوعا نقل کیا یے ۔ ))(22).

 ابن عدي نے  (الكامل میں کہا ہے کہ شریک کا یہ کہنا اس حدیث کو کوفی کے ادمی نے نقل کیا ہے اور وہ  الحرّ بن سعيد النخعي نے  شريك سے ، أبي إسحاق سے ،  أبي وائل سے ،  حذيفة سے  النبيّ(صلّى الله عليه وسلّم)  سے نقل کیا ہے کہ اپ نھ فرمایا  (عليّ خير البشر، فمن أبى فقد كفر).

ابن عدي نے ہے کہ اس حدیث کو الحر سے ایک سے زیادہ لوگوں نے نقل کیا ہے ۔اور اس سے   أحمد بن يحيى الصوفي نے ،  الحرّ بن سعيد النخعي، سے نقل کیا ہے اور الحر بن سعید اچھے لوگوں میں سے تھا ۔ قس نے  شريك  سے  الأعمش سے ۔ ، اور عطیہ سے نقل کیا ہے ۔کہ ہم نے جابر سھ کہا کہ تم علی کو اپنے درمیان کیسے شمار کرتے ہو ۔ تو ا سنے کہا وہ لوگوں میں سے سب سے افضل ہے ۔ (23).

 أحمد بن يحيى الصوفي  کی یہ گواہی دینا کہ الحر بن سعید بہترین ادمی تھا  ،  تو الذھبی نے جو کچھ ان کے حق میں کہا ہے وہ اپنی اعتبار سے رد  کر دیا ہے ۔  (( اور اس ادمی کے متعلق علماء میں ایسی کوئی کلام نہیں ہے 24  ۔البتہ ابن حجر نے اس کو مجہولین میں شمار کیا ہے ،(25).

الحرّ  سے عبد الله بن محمّد الهاشمي، نے بھی روایت کی ہے ۔ جیسا کہ  السبكي  نے  الحاكم سے نقل کیا ہے ۔ کہ ہمیں السيّد أبو الحسن محمّد بن يحيى العلوي، نے خبر دی ۔ انہوں نے  الحسن بن محمّد بن عثمان الشيباني، سے ، انہوں نے  عبد الله بن محمّد أبو عبد الله الهاشمي سے ، خبر دی کہ میں نے الحرّ بن سعيد النخعي سے کہا کیا اپ سے شریک نے حدیث بیان کی  ؟ تو الحر بن سعید نے کہا ہاں مجھے شریک نے أبي إسحاق سے ، أبي وائل، سے حذيفة، سے خبر دی ہے کہ  رسول الله(صلّى الله عليه وسلّم)، نے فرمایا ۔۔اور مذکورہ بالا حدیث ذکر کی ۔ 

- السبكي  نے کہا ہے کہ یہ ایسی حدیث ہے وهو ممّا ينكر على الحاكم إخراجه))(26)

Comments