- Get link
- X
- Other Apps
سوال
السلام علیکم و رحمةاللہ ۔ جب امام حسین علیہ السلام کے جسم نازنین پر گھوڑے دوڑائے گئے تو آپ زندہ تھے یا شہید ہوگئے تھے ۔؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمةاللہ ۔ تاریخ اور مقاتل کی کتابوں سے ظاہر ہوتا یے کہ جب آپ علیہ السلام پر گھوڑے دوڑائے گئے تو آپ شہید ہو چکے تھے ۔
اور یہ کام ابن زیاد کے حکم کے مطابق انجام پایا ۔ کیونکہ ابن زیاد نے عمر بن سعد لعنہم اللہ کو خط لکھا کہ میں نے اپ کو اس لئے نہیں بھیجا کہ تم امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نرمی کرو اور اس کو زندہ رکھو اور نہ ان سے معذرت کرو اور نہ ہی اس کی شفاعت کرنا ۔ اگر حسین اپنے اپ کو تیرے سپرد کرتا ہے تو امن سے میری طرف بھیج دے اور اگر تسلیم نہیں کرتا تو ان سے جنگ کرو اور ان کا مثلی کرو اگر امام حسین شہید ہو جاتے ہیں تو ان کے سینے اور پشت پر گھوڑ دوڑا دو اور مجھے نہیں لگتا کی ایسا ان کی موت کے بعد ان کو کوئی نقصان دے گا ۔
اگر تم نے میرا حکم مانا تو اپ کے لئے انعام و اکرام ہے ورنہ فورا معزول ہو جاو اور لشکر کی کمان شمر کو دے دو ہم نے اس کو بھی حکم دے رکھا یے ۔ انساب الاشراف للبلاذری ج 3 ص 183 ۔ الارشاد للمفید ص 287 ۔ المنتظم لابن الجوزی ج 5 ص 337 ۔ مقتل الحسین للخوارزمی ج 1 ص 150 ۔
اور یہ تاریخ میں مشہور و معروف ہے ۔ کہ عمر بن سعد نے لشکر میں اعلان کیا کہ کون حسین کے قریب جائے گا اور اس کے سینے اور پشت کو پامال کرئے گا ؟ تو دس گھوڑے سوار کھڑے ہوئے جن کے نام تاریخ میں موجود ہیں جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کے نواسے کے جسم کو پامال کر دیا ۔ تاریخ الطبری ج 4 ص 347 ۔ الارشاد للمفید ص 303 ۔ مروج الذھب للمسعودی ج 3 ص 62 ۔ الکامل فی التاریخ لابن الاثیر ج 3 ص 184 ۔ اللھوف لابن طاووس ص 182
سید ابن طاووس نے کہا یے کہ راوی کہتا ہے کہ عمر بن سعد نے ندا دی کہ کون ہے جو امام حسین علیہ السلام کے جسم کو پامال کرئے گا تو دس ادمی کھڑے ہوئے اور وہ اسحاق بن حوبہ ہے جس نے امام کی قمیص اتاری ۔ اخنس بن مرثد ۔ حکیم بن طفیل السبیعی ۔ عمر بن صبیح الصیداوی ۔ رجاء بن منقذ العبدی ۔ سالم بن خیثمةالجعفی ۔ صالح بن وھب الجعفی ۔ واحظ بن غانم ۔ ھانی بن ثبیث الحضرمی اور اسید بن مالک لعنہم اللہ جمیعا تھے ۔ انہوں نے گھوڑوں سے امام حسین علیہ السلام کی لاش پامال کی ۔
راوی کہتا ہے کہ یہی دس لوگ ابن زیاد کے پاس ائے اور فخریہ رجز پڑھے تو ابن زیاد نے کہا تم کون ہو تو انہوں نے کہا ہم نے امام حسین علیہ السلام کی لاش کو پامال کیا تو ابن زیاد نے بہت تھوڑا انعام دیا ۔
ابو عمر زاھد نے کہا کہ جب ہم نے ان دس کے نسب کو دیکھا تو سب ابن زنا تھے اور مختار نے ان کو پکڑ کر ان کے ہاتھ پاوں پر لوہے کی میخیں لگوائیں اور ان پر گھوڑے دوڑائے تاکہ ھلاک ہو جائیں ۔ اللھوف ابن طاووس ص 182 ۔ مثیر الاحزان لابن نما ص 59 ۔
ابو ریحان البیرونی نے کہا امام حسین اور ان کے اصحاب کے ساتھ وہ کیا گیا جو تمام مخلوق میں سے اشرار کے ساتھ بھی نہیں ہوا ۔ ان کو پیاسا شہید کیا گیا ۔ تلوار سے شہید کر کے ان کے خیموں کو جلایا گیا ۔ ان کے سر تن سے جدا کر لئے گئے اور ان کے لاشوں کو پامال کیا گیا ۔ الاثار الباقیہ ص 329 ۔ اس روایت کو ابی مخنف نے حمید بن مسلم سے روایت کیا ہے ۔ جیسے تاریخ الطبری اور ارشاد میں ہے ۔
الکراجکی نے کہا ہے کہ بنو السرج ان کی اولاد ہین جنہوں نے اپنے گھوڑوں پر زین کس لی تاکہ امام حسین علیہ السلام کے جسد مبارک کو پامال کریں تو ان گھوڑوں میں سے بعض مصر پہنچے اور انہوں نے ان کی نعل اپنے دروازوں پر لٹکا دیں تاکہ اس سے برکت حاصل کر سکیں اور پھر ان کے پاس یہ رواج ہو گیا اور لوگ جان بوجھ کر گھوڑوں کی نعل دروازوں پر لٹکاتے تھے ۔
زیارت ناحیہ کی عبارت میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام جب گھوڑے سے زخمی ہو کر گرئے تو ان کی لاش کو پامال کیا گیا ۔ یا ابھی تک زندہ تھے اور ان پر گھوڑے دوڑا دئے گئے ۔ زیارت ناحیہ کی نص عبارت یہ ہے کہ انہوں نے اپ کو گھوڑے سے نیچے گرایا کہ اپ زخمی ہو کر زمین پر ائے اور گھوڑوں نے اپ کو پامال کر دیا اور طغات نے اپ کو نیزوں پر بلند کیا ۔ اپ کی پیشانی پر موت لکھی گئی اور اپ کے دائیں اور بائیں اپ میں مخلوط ہو گئے ۔
لذا ان سب سے مستفاد یہ ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو دو بار پامال کیا گیا زندہ اور شہید ہونے کے بعد بھی ۔
لیکن اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ الکلینی نے ادریس بن عبداللہ الودی سے روایت نقل کی ہے ۔ کہ جب امام حسین علیہ السلام شہید ہوگئے تو انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو پامال کرنے کا ارادہ کیا تو فضہ نے جناب زینب سلام اللہ علیہا سے کہا کہ ایک کشتی سمندر میں ٹوٹ گئی تو اس کا مالک جزیرہ کی طرف گیا تو اچانک اس کو ایک شیر ملا تو اس نے شیر سے کہا کہ میں رسول اللہ کا غلام ہوں تو شیر اس کے پاوں پر گر گیا ۔ تو اپ مجھے اجازت دیں میں شیر
کو بتاتی ہوں کہ وہ کل امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کیا کرنے والے ہین ۔ تو جناب فضہ شیر کے پاس گئیں اور کہا ائے ابو حارث تو اس نے اپنا سر بلند کیا تو اس نے کہا کیا اپ کو معلوم ہے کہ وہ کل امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں ۔وہ گھوڑوں سے ان کی لاش پامال کریں گے ۔
تو راوی کہتا ہے کہ شیر اٹھا اور اپنا ہاتھ امام علیہ السلام کے جسم پر رکھ دیا تو جب گھوڑے ائے اور انہوں نے شیر کو دیکھا تو ابن سعد نے کہا کہ یہ فتنہ ہے اس میں مت پڑو ۔ اور پھر وہ واپس چلے گئے ۔ الکافی ج 1 ص 465 ۔
اور پھر علامہ مجلسی نے پہلے تو اس روایت کے راویوں کو مجہول کہا ہے اور پھر ابن طاووس کی روایت کو بھی نقل کیا ہے اور پھر کہا کہ میرے نزدیک معتمد یہ ہے کہ جو الکلینی نے روایت کی ہے اور جو سید ابن طاووس نے روایت کی یے وہ اس معجزہ کو چھپانے کی کوشش ہو اس لئے تو ابن زیاد نے ان کو انعام بھی ٹھوڑا دیا کیونکہ وہ اس کے جھوٹے دعوی کو جان چکا تھا ۔
اور جو مختار نے ان کے ساتھ کیا ہے وہ ان کے اپنے دعوی کے مطابق تھا اگرچہ وہ دعوی باطل تھا ۔ لیکن انہوں نے اس کے علاوہ جو کیا وہ ابشع اور زیادہ مصیبت زدہ ہے ۔ مرآة العقول ج 5 ص 371 ۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ جو ادریس بن عبداللہ نے نقل کیا ہے وہ مشہور کے مخالف ہے تو ان دونوں روایتوں کے درمیان توفیق ممکن ہے کہ مشہور کی روایت کے مطابق امام علیہ السلام کی لاش کو دس محرم کے دن پامال کیا گیا اور ادریس بن عبداللہ کی روایت کے مطابق شیر گیارہ محرم کو ایا تاکہ امام علیہ السلام کی لاش کی حفاظت کر سکے ۔ لذا یہ واقعہ دوبار پیش آیا خصوصا جب تمام علماء کے نزدیک یہ امر واقع اور ثابت ہے ۔
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment