- Get link
- X
- Other Apps
سوال
السلام علیکم و رحمة اللہ ۔ امام حسین علیہ السلام یزید کے خلاف اکیلے کیوں نکلے ۔ اور اپنے پیروکاروں اور اتباع کو اس انقلاب کا حکم کیوں نہین دیا جبکہ اپ کے پاس مدینہ اور کوفہ میں پیروکار موجود تھے ؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمة اللہ ۔
حقیقت میں اس سوال کی دو شقیں ہیں ۔ یعنی امام حسین علیہ السلام نے یزید کی حکومت کے خلاف انقلاب کیوں برپا گیا اس کے اسباب کیا ہیں ۔ کیونکہ سائل خروج کے اسباب پوچھنا چاہتا ہے نہ کہ اعتراض کر رہا ہ2 دوسرا یہ کہ امام علیہ السلام نے اپنے اتباع کو نکلنے کا حکم کیوں نہیں دیا جبکہ اپ کے پاس لوگ موجود تھے ۔
سوال کی ان دونوں شقوں کا جواب دینے سے پہلے یہ واضح کرنا لازمی ہے کہ معصوم علیہ السلام کے فعل کیا توجیہ اور تفسیر خود امام علیہ السلام ہی کر سکتا ہے۔ اور ہمیں ان کے بیان پر ہی یقین کرنا چاہئے نہ کہ غیب میں اندازہ کرنا چاہئے۔
اور اپ کے خروج کے اسباب اور غایات خود امام علیہ السلام کے کلام اور اقوال سے معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جن میں سے ایک شہادت کی طلب تھی ۔
الشَّهادةُ توفيق:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شہادت اللہ کی طرف سے توفیق ہے جس کو سچی دعا کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا اور دعا پر اصرار کرنے سے ہی شہادت مل سکتی ہے
اس لئے ماہ رمضان کی راتوں کی دعا میں وارد ہوا ہے۔ کہ شہادت کی دعا مانگی جائے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا ۔ (وقتلاً في سبيلِكَ فوفِق لنا) اقبال الاعمال للسید ابن طاووس ۔
ہمارے صالحین نے بہت کثرت سے یہ دعا مانگی کہ اللہ انہیں شہادت نصیب فرمائے ۔ جیسے
عبد الله بن عفيف الازدي ہیں جن کی ایک انکھ أمير المؤمنين -عليه السلام– کے ساتھ جنگ جمل میں اور دوسری صفين میں ضائع ہو گئی ۔ یہ بہادر انسان ابن مرجانہ ابن زیاد کے سامنے حق پر ڈٹ گیا اور جرائت مندانہ خطاب فرمایا ۔ جب اس لعین نے امام حسین اور ان کے والد امیرالمومنین علیہما السلام کے خلاف غلیظ گفتگو کی ۔ اور ان کے موقف کو جھٹلانے کی کوشش کی تو اس صحابی جلیل نے بغیر کسی خوف اور ڈر کے فرمایا کہ تم اور تیرا باپ جھوٹا اور فریبی ہے۔ (إنَّ الكذاب أنت وأبوك)
جب ابن زياد – عليه اللعنة – نے اپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اپ نے فرمایا کہ میں اللہ سے یہی دعا مانگ رہا تھا کہ مجھے شہادت نصیب فرمائے اور وہ بھی ایسے ادمی کے ہاتھوں جو تمام مخلوق میں سے لعین ترین ہو۔ ) :الارشاد الشيخ المفيد 2/117، ومثير الأحزان لابن نما الحلي 72۔
جب صالحین اور عارفین کی عادت شہادت کو طلب کرنا ہے۔ تو پھر امام حسین علیہ السلام اس کے زیادہ مستحق اور لائق ہیں کہ وہ شہادت کو اپنے لئے طلب فرمائیں ۔ اور وہ معصوم بھی ہیں اور زھد و عبادت میں سب سے زیادہ ہیں ۔ علم و بصیرت میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے اسی لئے مجلسی نے کہا ہے۔ کہ بعض درجات تک پہنچنا شہادت کے بغیر ممکن نہیں یے پس اللہ جس سے محبت کرتا ہے اس کی تعظیم و عزت کے لئے شہادت کی موت عطا فرماتا ہے ، .- بحار الأنوار 64/250 ، مرآة العقول9/322
اگر امام حسین علیہ السلام کربلاء میں شہید نہ ہوتے تو اللہ کے ہاں جنت میں یہ منزلت اور رتبہ نہ پاتے ۔
اللهوف: میں وارد ہوا ہے۔ کہ الإمامَ الحُسين (ع) نے اپنے بھائی محمّدٍ بنِ الحنفيّة: سے فرمایا کہ جب میں اپ سے جدا ہوا تو رسولُ اللهِ صلّى اللهُ عليهِ وآله وسلّم بعدَ میرے پاس ائے۔ اور فرمایا ائے حُسين تم مدینہ سے نکلو اللہ کی مرضی ہے کہ وہ اپ کو شہید دیکھنا چاہتا ہے۔ اللھوف ۔
اخری جملہ مقام انشاء میں ہے کہ اپ کا خروج حتمی تھا۔ اور اللہ کے راستے میں قتل ہونا مکتوب تھا۔
ورنہ اگر امام حسین علیہ السلام مکہ میں رہ جاتے تو یزید وہاں بھی اپ کو قتل کروا دیتا
اگرچہ اپ کعبہ کے استار کے ساتھ بھی ہوتے ۔ اور یزید مکہ پر اپنے والی محمد بن سعيد الأشدق کو الإمام الحسين -عليه السلام- کے قتل کا حکم دے چکا تھا۔ بحار الانور ۔
اور یزید اس فعل سے تین چیزوں کی ھتک حرمت کرنا چاہتا تھا ۔ ناحق خون بہانہ ۔ البيت الحرام، اور حرمت کا مہینہ ۔ کیونکہ اپ –عليه السَّلام– حجّ کے ایام میں نکلے تھے ۔ اور انہوں نے اپ کے بعد عبد الله بن الزّبير. کو خانہ کعبہ میں قتل کر کے اس کی حرمت پامال کی ۔
الإمام الحسين – عليه السلام- نے اپنے مقتل کی خبر دی
الإمام الحسينُ – عليه السلام – نے اس بات پر کئی بار تنبیہ کی چاہئے وہ عام محفل ہو یا خاص محفل ہو ۔ آپ – عليه السَّلام-" نے فرمایا اللہ کی قسم یہ لوگ میری بیعت لینے کے بغیر مجھے نہین چھوڑیں گے اگرچہ میں حشرات کی بل میں ہی کیوں نہ گھس جاوں ۔ یہ مجھے وہاں سے نکال کر قتل کریں گے ۔ "الارشاد ج 2 ص 76
آپ نے ابن زبیر سے کہا مجھے میرے والد نے خبر دی تھی کہ یہاں ایک کی حرمت پامال کی جائے گی اور مجھے پسند نہین یے کہ وہ میری قربانی ہو۔ تاریخ الطبری ج 4 ص 289
الإمام – عليه السلام – مدینہ میں کیوں نہ رہے۔ ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا مدینہ میں باقی رہنا آپ کے لئے بہت خطرناک تھا ۔ یزید مدینہ کا بھی احترام نہ کرتا ۔ اور اس نے کربلاء کے بعد واقعہ الحرہ میں مدینہ کو برباد کیا ۔
اس نے معاویہ کے مرنے کے بعد مدینہ کے حاکم الوليد بن عتبةَ بن أبي سفيان کو خط لکھا کہ وہ الإمام الحسين – عليه السَّلام – سے بیعت لے اور ان کو اس معاملے میں ڈھیل نہ دے ۔ یہاں تک کہ الإمام – عليه السلام – اور مروان – کے درمیان مناقشہ بھی ہوا ۔ اور مروان نے ولید کو امام حسین علیہ السلام کے قتل کرنے کا مشورہ بھی دے دیا۔ کہ اللہ کی قسم اگر اج امام حسین علیہ السلام بیعت کے بغیر چلا گیا تو پھر کبھی اپ ان سے بیعت نہیں لے پاو گے جہاں تک کہ اپ اور ان کے درمیان جنگ ہو گی اس کو ابھی روک لو بیعت کریں ورنہ ان کو قتل کر دو۔ الارشاد ج 2 ص 33
لذا ان لوگوں نے اپ کو دوچیزوں میں اختیار دیا جنگ کا یا پھر ذلت اور رسوائی کا ۔
اپ نے دو دن بعد اپنے جد امجد کا شہر چھوڑتے ہو کہا "فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ"
دوسری شق کا جواب ۔
الإمام الحسين – عليه السلام – نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس کا ساتھ دین اور یزید کے خلاف قیام کرین ۔
اور اپ نے قبائل کے سرداروں کی طرف خطوط اور وفود بھیجے ۔ لذا اھل کوفہ نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پہ جو کہ 18 ہزار ادمی تھے ۔ اپ کی بیعت کی ۔ اور اپ کو لکھا کہ اپ ا جائین اپ کے لئے ایک لشکر تیار ہے۔ روضہ الواعظین ص 173 ۔
اور معاویہ کے دور سے شیعہ پر بہت سختی تھی ۔ معاویہ نے ان پر ایسے ادمی کو مسلط کیا جس نے شیعہ کی نسل کشی کی ۔
اور ان کو کوفہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور باقیوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں رکھا ۔
اس کے علاوہ صرف محبت اور خلوص کا دعوی کافی نہین ہے۔ بلکہ محبت اور اخلاص حبيب بن مظاهر ومسلم بن عوسجة اور اپ کے أصحاب اور أهل بيت جیسا ہونا چاہئے ۔ اور ایسے لوگ بہت ہی کم اور نادر تھے ۔ الفرزدق نے کیسی خوبصورت تعبیر کی ہے کہ "قلوبُهم معك وسيوفهم عليك" ان لوگوں کے دل اپ کے ساتھ اور تلوار اپ کے خلاف ہے ۔أنساب الأشراف للبلاذري ص 3
اور ایسے لوگوں کی کثرت تھی ۔؛ اس لئے واجب تھا کہ الإمام الحسين – عليه السلام – خود خروج کرتے اور اور اپنے اھلبیت اور خاص اصحاب کے ساتھ قیام کرتے ۔
المصادر.
5- بحار الأنوار 55/99، ينابيع المودة3/59
6- الإرشاد 2/76
7- بحار الأنوار 44/367
8- تاريخ الطبري 4/289
9- الإرشاد 2/33
10- القصص 21
11- روضة الواعظين 173
12- انظر :أنساب الأشراف للبلاذري3
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment