- Get link
- X
- Other Apps
۔
سوال
تقلید کیوں حجت ہے ۔ ۔؟ کب شروع ہوئی اور ہم کس بنیاد پر دوسرے کی تقلید کرتے ہیں ؟
جواب
اپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ تقلید کیوں حجت ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ تقلید کی حجیت عقلی ہے ۔ اور وہ جاھل کا عالم کی طرف اس چیز میں رجوع کرنا ہے جس کی معرفت جاھل کو حاصل نہیں ہے ۔
اور اس پر دوسری دلیل معصومین علیہم السلام سے صحیح السند روایات ہیں ۔ ان میں سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ روایت ہے ۔ ( کہ فقہاء میں سے جو متقی و پرہیزگار ہو ۔ اپنے دین کی حفاظت کرنے والا ہو خواہشات نفس کا مخالف ہو اور اپنے مولی کے اوامر کا مطیع ہو تو عوام کو اس کی تقلید کرنی چاہئے ) الاحتجاج ج 2 ۔
اور اپ کے دوسرے سوال کا جواب کہ تقلید کب شروع ہوئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ امام صاحب الامر و الزمان علیہ السلام کی غیبت کبری کے ساتھ ہی یہ سلسلہ شروع ہوا جس پر ائمہ اطہار کی روایات دلالت کرتی ہیں ۔
اور اپ کا یہ سوال کہ ہم کس بنیاد پر تقلید کریں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر اس سے مراد مجتہد میں موجود شرائط ہیں کہ جس میں وہ شرائط پائی جائیں اس کی تقلید ہو سکتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ شرائط یہ ہیں ۔ بالغ ہو ۔ عاقل ہو ۔ شیعہ اثناعشریہ ہو ۔ مرد ہو ۔ حلال زادہ ہو ۔ مجتہد ہو ۔ عادل ہو ۔ زندہ ہو ۔ قوت حافظہ ہو ۔ اور اختلاف کی صورت میں باقیوں سے اعلم ہو۔
اور اگر اپ کی مراد یہ ہے کہ ہم کس طرح ایک مرجع تقلید کی تشخیص کر سکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ
1۔ اھل خبرہ میں سے دو ادمی گواہی دیں کہ فلاں اعلم اور مجتہد ہین ۔
2۔ خود مکلف کو یقین حاصل ہو جائے کہ فلاں اعلم ہے اور اس میں مکلف اھل علم میں سے ہو اور مجتہد کے ساتھ علمی گفتگو کرنے سے اس کی اعلمیت کی تشخیص پر قادر ہو ۔
3- اس کی اعلمیت کے بارے میں اطمئنان بخش شہرت ہو ۔
(1) الاحتجاج 2:
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment