- Get link
- X
- Other Apps
سوال
سیکولر محقق فرج فودة: کہتا ہے۔ کہ قران مجید میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کا کام صرف تبلیغ دین تھا ۔ اور اللہ کی رسالت کو لوگوں تک پہنچانا تھا ۔ یعنی اپ نے صرف ڈاکیا کا کام کرنا تھا فقط ۔ اس کے علاوہ جو کچھ قران میں ذکر نہین ہوا اس کا حق رسول اکرم کو نہیں ہے۔ ؟
جواب
فرج فودة، کی طرف اس قول کی نسبت کے قطع نظر اس دعوی کا سنت کے منکرین کے پاس بہت رواج ہے۔ اور ہم ییاں اس طرز فکر پر مناقشہ کرتے ہیں ۔
أوّلاً: قران مجید نے واضح طور پہ رّسولِ اکرم (صلّى اللهُ عليهِ وآله)، کے متعدد فرائض اور مہمات بیان کی ہیں ۔ اس کے باوجود بعض کی کوشش یہ ہے کہ وہ آپ کی مہمات کو صرف تبلیغ دین اور قران میں محصور کر سکیں ۔
قران مجید کی صراحت رسالت اھداف اور مہمات کو بیان کرتی ہے ۔ اور قیادت اور مدیریت کے شئون بھی واضح کرتی ہے۔
رسالت کے ساتھ جن امور کا تعلق ہے ان مین سے قران مجید کی تبلیغ کے علاوہ اس کی تفسیر۔ اور تاویل کی ذمہ داری بھی اپ کی ہے۔
اور نفوس کا تزکیہ کرنا کتاب اور حکمت کی تعلیم دینا بھی اپ کے فرائض میں سے ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ ﴿وَأَنزَلنَا إِلَيكَ الذِّكرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيهِم وَلَعَلَّهُم يَتَفَكَّرُونَ(اے رسول) آپ پر بھی ہم نے ذکر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کر بتا دیں جو ان کے لیے نازل کی گئی ہیں اور شاید وہ (ان میں) غور کریں) ،
پھر فرمایا :هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنهُمْ يَتلُو عَلَيهِم آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتَابَ وَالحِكمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبلُ تلَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ۔
ترجمہ
وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں ۔پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے ۔
یہ جتنے بھی فرائض ہین ان کا تقاضہ ہے کہ اپ قران مجید کے علاوہ بھی کچھ مہمات کو پہنچانے ائے ہین ۔ کہ جن سے استغناء ممکن نہیں ہے۔ اور سنت نبوی قران مجید کے بعد دوسرا اسلام مصدر ہے۔
قران مجید کی تفسیر حقائق غیبیہ کو بیان کرنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ اور عبادات کی تفصیلات اور حدود کو بیان کرنا لازمی ہوتا ہے جن میں شریعت کی تطبیق ہو سکے۔
یعنی ہر وہ قضیہ جس کے ادراک میں عقل مستقل نہین ہو سکتا وہ رسول اکرم کے مختصات میں سے ہے۔ اور اس پر سنت دلالت کرئے گی جس پر خود قران مجید نے زور دیا ہے۔
جیسا کہ سنت کو عام امور جیسے قیادت ۔قضاوت اور لوگوں کے امور کی مدیریت سے دور نہیں کیا جا سکتا۔
ایک مسلم پر رسول اکرم کی مطلقا اطاعت واجب ہے۔ چاہئے وہ دینی امور میں ہو یا دنیاوی امور میں ہو ۔
اللہ فرماتا ہے۔ ﴿وَمَا أَرسَلنا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذنِ اللهِ۔اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے)
ترجمہ
اس ایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کی اطاعت مطلق اور مکمل پیروی کا حکم ہے ۔ اور یہ اطاعت صرف احکام دین میں منحصر نہیں ہے۔ بلکہ زندگی کے تمام امور کو شامل ہے۔
لذا لوگوں کی قیادت کرنا ۔ ان کے شؤون اور امور کی ادارت کرنا نبی اکرم کے مختصات میں سے ہے۔
اور رسول اکرم کے اس دور کو باطل قرار دینا یعنی رسالت کو عملی اور معاشرتی پہلو سے الگ کرنا رسول اکرم کی شخصیت کو مہمل قرار دینا ہے۔ اور بلا فائدہ سمجھنا ہے۔ اور امت کی قیادت سے محروم کرنا ہے۔
بہت ساری ایات ہیں جن میں عام امور میں بھی رسول اکرم کی طرف رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔
﴿وَإِذَا جَاءَهُم أَمرٌ مِّنَ الْأَمنِ أَوِ الْخَوفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَو رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمرِ مِنهُم لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنهُم وَلَولَا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيطَانَ إِلَّا قَلِيلًا۔ اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے خوب پھیلاتے ہیں اور اگر وہ اس خبر کو رسول اور اپنے میں سے صاحبان امر تک پہنچا دیتے تو ان میں سے اہل تحقیق اس خبر کی حقیقت کو جان لیتے اور اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند ایک افراد کے سوا باقی تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔)
اس ایت میں مومنین کا و ظیفہ بیان ہوا ہے کہ ان کی شرعی قیادت رسول اکرم کے پاس ہے۔ اور وہ لوگ جنگ کے امور میں اپ کی طرف رجوع کریں ۔ اور یہ اداری کام ہے جس کا وحی کی تبلیغ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس پر دلیل یہ ہے کہ اولی الامر کا عطف رسول اکرم پر ہو رہا ہے۔ اور یہ واضح ہے کہ اولی الامر کے پاس صرف قیادت اور اداری کام ہین نہ کہ وحی کی تبلیغ ہے۔ .
قیادت کے تحت اہم امور میں سے ایک لوگوں میں قضاوت کرنا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَينَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِم حَرَجًا مِّمَّا قَضَيتَ وَيُسَلِّمُوا تَسلِيمًا۔
ترجمہ
(اے رسول) تمہارے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو منصف نہ بنائیں پھر آپ کے فیصلے پر ان کے دلوں میں کوئی رنجش نہ آئے بلکہ وہ (اسے) بخوشی تسلیم کریں)۔
ثانياً: قران مجید نے تاکیدا بیان کیا ہے کہ جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ سے صادر ہو گا وہ اللہ کی طرف سے وحی ہو گی۔ اللہ فرماتا ہے۔ : (وَمَا يَنطِقُ عَنِ الهَوَىٰ * إِن هُوَ إِلا وَحيٌ يُوحَى
وہ خواہش سے نہیں بولتا۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿۴﴾
۴ یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے۔ )
قران نے صراحتا اس بات کی نفی کی ہے کہ مطلقا نبی اکرم اپنی خواہش سے بات نہین کر سکتے یعنی جو کچھ اپ فرمائین گے وہ حق ہو گا جس میں باطل سرائیت نہین کر سکتا۔ یہاں نطق کی تفسیر صرف قران کرنا درست نہین ہے۔ کیونکہ اگر یہ درست ہوتا تو پھر رسول اکرم کی دو طرح کی گفتگو ہوتی ۔
پہلی ان کا بولنا قران ہوتا جو کہ ان کی اپنی مرضی اور خواہش سے نہیں تھا ۔
دوسری ۔غیر قران ہوتا اور وہ یا تو ھوی و خواہش سے ہوتا اور مامون نہ ہوتا یعنی مشکوک ہوتا
تو اس حالت میں امت کو اس سے بچانا واجب ہو جاتا۔ ہعنی جو کچھ رسول اکرم اپنی مرضی اور خواہش سے گفتگو کرین وہ مشکوک ہو گی کہ حق ہے یا حق نہین ہے۔
(نستغفرُ اللهَ عَن قولِ ذلك) تو پھر امت کو اس سے بچانا لازم تھا ۔کیونکہ اللہ ہمیں کس طرح مطلقا رسول اکرم کی اطاعت کا حکم دے سکتے ہین ۔ جبکہ رسول اکرم اپنی خواہش کے تابع ہین ۔ ؟
اللہ اپنے رسول کو کیسے قران اور حکمت کی تعلیم کا کہ سکتا ہے جبکہ وہ اپنی خواہش سے تعلیم دینے سے محفوظ نہیں ہے۔ ؟ کیا یہ کھلی گمراہی نہین ہے۔ ؟
ثالثاً اگر رسول اکرم کا کام صرف وحی کی تبلیغ تھا تو پھر ہمارا وظیفہ بس اتنا تھا کہ ہم رسول اکرم کی قران لانے میں تصدیق کرتے اس سے زیادہ ہم پر کچھ اور واجب نہین تھا ۔ لیکن اس وقت ہم کیسے اللہ کا یہ قول سمجھ سکتے ہیں ۔: (ربّنا آمنّا بما أنزلتَ واتّبعنا الرسولَ فاكتُبنا معَ الشاهدين ہمارے رب! جو تو نے نازل فرمایا اس پر ہم ایمان لائے اور ہم نے رسول کی پیروی قبول کی پس ہمارا نام بھی گواہوں کے ساتھ لکھ دے۔)
کیونکہ یہاں واتّبعنا الرّسول - تحصيل حاصل ہو جاتی کیونکہ رسول کی اتباع تو صرف قران پر ایمان لانے میں محدود ہے۔ تو اس کا معنی یہ ہوتا کہ ائے اللہ جو کچھ اپ نے نازل کیا ہم نے اس پر ایمان لایا ہے۔ اور جو کچھ اپ نے نازل کیا اس پر ایمان لایا ہے۔ (ربّنا آمنّا بما أنزلتَ - وآمنّا بما نزّلت - فاكتُبنا معَ الشاهدين).
اسی طرح اللہ فرماتا ہے۔ (والذينَ استجابوا للهِ والرسول مِن بعدِ ما أصابَهم القرح.۔جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کے حکم کی تعمیل کی، ) اگر اللہ کی استجابت صرف اللہ پر ایمان لانے میں منحصر تھی تو پھر رسول کی استجابت کیسے ہو گی۔ ؟ اور اگر رسول کی استجابت صرف اس کی تصدیق تھی جو اپ لے کر ائے یعنی قران ۔ تو پھر اللہ کی استجابت کیسے ہو گی ۔ ؟
اللہ فرماتا ہے۔ : (تلكَ حدودُ الله ومَن يُطع اللهَ ورسولَه يُدخِله جنّات ...) جب اللہ کی ساری حدود قران میں ہوتین اور قران سے باہر کچھ نہ ہوتا تو ایت کا معنی اس طرح ہوتا۔ (تلكَ حدودُ الله ومَن يُطِع اللهَ يدخلهُ جنّات...) تو رسول کی اطاعت کی ضرورت نہ رہتی ۔ کیونکہ رسول کے پاس قران کے علاوہ کوئی حد ہی نہین ہے۔ ؟
اسی طرح (وإذا قيلَ لهُم تعالوا إلى ما أنزلَ الله وإلى الرّسول ...) اس ایت میں دو فرق بیان ہوئے ہین ۔
الأوّل ۔ اس کی طرف ا جاو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ قران مجید ہے۔ :
والثاني: دوسرا رسول کی طرف ا جاو ۔
اور جب رسول اکرم کا کام صرف قران کی تبلیغ میں منحصر تھا تو ایت میں تکرار لازم ائے گا ۔
تو اس بنا پر ایت کی تفسیر اسی طرح ہو گی۔ ، (وإذا قيلَ لهُم تعالوا إلى ما أنزلَ اللهُ (القرآن) وإلى الرّسولِ (القرآن) یعنی صرف القرآنِ والقرآن. کی طرف ا جاو ۔
اسی طرح اگر ہم قران مجید کی ایات میں غور کرین تو ہمیں معلوم ہو گا کہ رسول اکرم کا کام قران مجید کی تبلیغ کے علاوہ بھی تھا۔ جو قیادت اور لوگوں پر حکومت تھی۔ جن میں قران کی طرح رسول اکرم کی اتباع اور اطاعت واجب ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment