اجتہاد اور تقلید کی تاریخ ۔

 ا

السؤال /
السلام علیکم و رحمة اللہ ۔
- تقلید کے وجوب پر تاریخی دلیل کیا ہے ؟ اور کیا یہ درست ہے کہ تقلید تقریبا 200 پہلے شروع ہوئی ۔؟
اور کیا یہ بھی درست ہے کہ سب سے پہلے تقلید کا نعرہ شیخ مرتضی انصاری نے لگایا ۔۔؟
اور کچھ ان کتابوں کے نام بھی بتائین جن میں تقلید کی تاریخ بیان ہوئی ہے ۔

-  کیا تقلید کے وجوب پر قران مجید اور رسول اکرم اور اھلبیت علیہم السلام کی روایات موجود ہیں ۔ ؟
-  تاریخی اور شرعی اعتبار سے اجتہاد اور تقلید میں کیا فرق ہے ؟
- جو تقلید نہیں کرتا اس کے اعمال کا کیا حکم ہے ۔ ؟ 
کیا ایسے ادمی کے اعمال کو باطل قرار دینا اللہ کے سوائے کسی اور کو حق ہے ؟
-  کیا ایسا ممکن ہے کہ انسان مختلف مسائل میں متعدد مراجع کی تقلید کر لے جو اس کے لئے مناسب ہو ۔ ؟
-  مرجع سے کسی حکم پر دلیل شروی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے ۔ ۔؟ کیونکہ ایسا نہ کرنا عقل کے منافی نہیں ہے ؟
الجواب

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رسول اکرم (صلّى الله عليه وآله وسلّم)  اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے دور میں  لوگ   اپنے شرعی احکام میں آپ کے طرف رجوع کرتے تھے ۔ اور لوگوں کے اس عمل کو تقلید ہی کہا جاتا ہے ۔ اور بعض اوقات امام اپنے اور لوگوں کے درمیان واسطہ قرار دے دیتا تھا ، جو کہ شرعی حکم کو  امام علیہ السلام سے لوگوں تک نقل کرتا تھا ۔ .
امام محمد باقر (عليه السلام)  سے روایت ہے کہ اپ نے ابان بن تغلب سے فرمایا کہ اپ مسجد میں بیٹھیں اور لوگوں کو فتوی د دیں ۔مجھے پسند ہے کہ میرے شیعوں میں اپ جیسے لوگ موجو  
 رجال النجاشي: 10 باب الألف).
امام رضا علیہ السلام کے اصحاب نے امام سے یونس بن عبدالرحمن کے بارے پوچھا کہ کیا وہ ثقہ ادمی ہے ہم ان سے احکام دین معلوم .
() اختيار معرفة الرجال 2: 784(935) أصحاب الرضا( سکتے ہیں ۔ تو اپ علیہ السلام نے فرمایا جی ہاں ۔ .
اور غیبت صغری میں امام علیہ السلام نے ایک معین شخص کو اپنا نائب خاص قرار دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان واسطہ ہو ۔ اور ان تک شرعی احکام پہنچ سکیں ۔ اور ان کو سفیر کہا جاتا ہے جو کہ 4 علماء تھے ۔ (3).
اعر غیبت کبری میں امام علیہ السلام نے لوگوان کو ائمہ اطہار علیہم السلام سے روایات بیان کرنے والوں کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ۔
اپ نے فرمایا نئے انے والے واقعات ہماری احادیث بیان کرنے کی طرف رجوع کریں وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں اللہ کی طرف ان پر حجت ہوں ۔
(4)،
الإمام الصادق(عليه السلام): نے فرمایا  ( فقہاء میں سے  جو پرہزگار ہو ۔ دین کی حفاظت کربے والا ۔ خواہشات نفس کا مخالف ہو اپنے مولا کا اطاعت گزار ہو تو عوام کو اس کی تقلید کرنی چاہئے ۔ )(5).
اور غیبت کبری کے ساتھ ہی فقہاء کی جماعت موجود تھی جس کا سلسلہ اج تک جاری و ساری ہے ۔   ہم یہقں چند فقہاء کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

1- العيّاشي،  جنہون نے قران مجید کی تفسیر لکھی جو  سنة (320هـ).میں فوت ہوئے ۔
2- علي بن بابويه القمّي، جو  سنة (329هـ).میں فوت ہوئے ۔
3- ابن أبي عقيل العماني، جو جعفر بن قولويه، کے استاد ہیں اور امام علیہ السلام نے اخری سفیر   السمري  کے ہم عصر تھے ۔ جو  سنة (369هـ).میں فوت ہوئے ۔
4- ابن الجنيد الاسكافي، شیخ مفید کے استاد ہیں اور سنة (381هـ)، میں وفات پائی ۔ ابن جنید اور ابن ابی عقیل کو قدماء میں شمار کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ دنوں غیبت کبری کے شروع میں موجود تھے  ۔
5- الشيخ المفيد، جو  سنة (336هـ) میں پیداء ہوئے اور  (413هـ).میں وفات پائی
6- السيّد المرتضى، اپ سنة (355هـ)  میں پیدا ہوئے اور  (436هـ).میں فوت ہوئے
7- الشيخ الطوسي، اپ  سنة (385هـ) میں پیدا ہوئے اور  (460هـ).میں فوت ہوئے ۔
یہ وہ علماء ہیں جو غیبت کبری کے شروع میں موجود تھے ۔ اور ان کی فقہ میں بہت ساری کتب موجود ہیں  اور اس وقت کے لوگ اپ ے فقہی مسائل ان سے ہی معلوم کرتے تھے ۔
اور علم فقہ کی تاریخ میں . الشيخ محمّد علي الأنصاري  نے  اغا بزرگ تہرانی کی كتاب (توضيح الرشاد في تاريخ حصر الاجتهاد)  کے مقدمہ میں تحقیق پیش کی ہے ۔ اور اسی طرح الشيخ محمّد مهدي الآصفي نے ( شرح اللمعة الدمشقية کے مقدمہ میں ) اور شيخ علي آل كاشف الغطاء نے اپنی  كتاب (أدوار علم الفقه وأطواره) میں فقہ کی تاریخ پر تحقیق پیش کی ہے ۔ ...(6).
اور فقہاء نے اجتہاد اور فتوی کی حجیت پر اور جاھل کے عالم کی طرف  رجوع کرنے پر اللہ تعالی کے اس قول  (( وَمَا كَانَ المُؤمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً فَلَولا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرقَةٍ مِنهُم طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَومَهُم إِذَا رَجَعُوا إِلَيهِم لَعَلَّهُم يَحذَرُونَ )) (التوبة:122)، کے ذریعہ استدلال کیا ہے ۔ پس اللہ نے کچھ لوگوں پر دین میں تفقہ کرنا واجب قرار دیا ہے ۔ جو کہ اجتہاد کو شامل ہے ۔اور دوسروں کو عملی طور پہ منذرین کی اخبار پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے جو کہ تقلید کو شامل ہے ۔

اور اپ کا یہ سوال کہ سب سے پہلے شیخ انصاری نے تقلید کی بحث مطرح کی ہے تو یہ اپ کی کم فھمی ہے ۔ کیونکہ اعتراض کرنے والوں کو  صرف شیخ انصاری کی فقہی کتب میں اجتہاد اور تقلید کا مستقل باب ملا ہے ۔ اس لئے انہوں نے سمجھا ہے کہ سب سے پہلے شیخ انصاری نے تقلید کا موضوع وضع کیا ہے ۔
جبکہ شیخ انصاری سے پہلے کے علماء کی اصولی ابواب میں تقلید اور اجتہاد کی بحث موجود ہے  اس لئے انہوں نے اپنی فقہی ابواب میں اس پر بحث نہیں کی بلکہ اصولی ابحاث میں جگہ دی ہے ۔ (7)
اور جو تقلید کے بغیر عمل کرتا ہے اگر اس کا عمل واقع کے مطابق ہوا تو اس کا عمل مجزی اور کافی ہے ۔ لیکن اگر واقع کے مطابق نہ ہوا تو اس کا ذمہ عبداللہ برئ نہیں ہو گا ۔ 
اور یہ اعتراض کرنے والا یا تو خود مقلد ہے اور ان سے احکام لئے ہیں جنہوں نے اس کو بتایا ہے جیسے استاذ ۔ والد ۔ ماں ۔بھائی اور دوست ۔ لیکن وہ اس کا اعتراف نہیں کر رہا ۔ بلکہ مجہتد کی تقلید کے علاوہ ان کی تقلید کرتا ہے ۔ یا پھر وہ شرعی حکم کتابوں میں سے لے لیتا ہے ۔اب وہ اگر استنباط کئے بغیر لیتا یے تو یہ بھی تقلید ہے ۔ یا پھر اس حکم پر دلیل کو سمجھ کر لیا ہے تو وہ مجتہد ہے ۔ لیکن وہ ایک دو حکم تو سمجھ لے گا لیکن تمام فقہی ابواب کو درک کرنا مشکل ہے ۔ لیہن اگر اس میں اجتہاد کا ملکہ حاصل ہو جائے تو وہ خود مرجع بن سکتا ہے اگر باقی شرائط بھی موجود ہوں ۔
اور یہ سوال کہ وہ مجتہد سے شرعی دلیل مانگ سکتا ہے تو یہ ہر مکلف اور سائل کا حق ہے ۔ لیکن واجب اور ضروری  نہیں ہے ۔ لیکن یہ سوال وہی کر سکتا ہے جس میں ان دلیلوں کو سمجھنے کی قدرت اور اسطاعت ہو ۔

عليه السلام).
(3) انظر: الغيبة للشيخ الطوسي: 354 الفصل (6).
(4) كمال الدين وإتمام النعمة: 484 الباب(45) ذكر التوقيعات، وسائل الشيعة 27: 140 الباب(11) حديث (33424) من أبواب صفات القاضي.
(5) الاحتجاج 2: 263 احتجاج أبي الحسن العسكري(عليه السلام) في أنواع شتى من علوم الدين، وسائل الشيعة 27: 131 الباب(10) حديث (33401) من أبواب صفات القاضي.
(6) انظر: مدخل إلى علم الفقه للشيخ علي خازم: 16.
(7) انظر: رسائل المرتضى 1: 43، 2: 317، الذريعة إلى أصول الشريعة 2: 296 فصل في صفة المفتي والمستفتي، عدّة الأُصول 2: 727 الباب(11) الفصل (2)، مبادئ الأُصول: 246 الفصل (11) البحث(5) في جواز

Comments