عادل فقہاء کی تقلید کا حکم ۔


سوال

 عادل فقہاء کی اتباع کا حکم کس نے دیا  ؟ اور یہ کس کی کلام ہے کہ جس نے فقہاء کی مخالفت کی اس نے اللہ کی مخالفت کی؟

جواب

مکلف کے لئے لازمی ہے کہ جب وہ اجتہاد یا احتیاط کا اھل نہ ہو تو شرعی حکم کو معلوم کرنے کے لئے تقلید کرئے  یعنی جو مکلف شرعی حکم نہیں جانتا وہ شرعی احکام کے جاننے والے سے رجوع کرئے ۔
اور اس پر ان دلیلوں سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔
 تمام مسمانوں کی سیرت اور ان کا عملی اجماع ہے کہ وہ شرعی احکام مجتہدین سے اخذ کرتے ہیں  ۔
ظاہرا یہ سیرت ،  عقلاء کی سیرت سے ماخوذ ہے جن میں تمام امور میں اھل خبرہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔
ہر وہ جس کو کسی چیز کا علم نہیں ہے وہ اس چیز کے عالم کی طرف رجوع کرتا ہے  ۔ اگر یہ سیرت نہ ہوتی تو نظام کائنات معطل اور خراب ہو جاتا  ۔ کیونکہ اپنی ہر احتیاج کا علم ہر ادمی حاصل نہیں کر سکتا ۔ لذا مسلمانوں کی یہ سیرت کاشف ہو گی کہ شارع مقدس نے سیرت عقلاء پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے ۔ 
   اللہ فرماتا ہے   
 فَلَولا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرقَةٍ مِنهُم طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَومَهُم إِذَا رَجَعُوا إِلَيهِم لَعَلَّهُم يَحذَرُونَ 
ترجمہ  
پھر کیوں نہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ وہ دین کی سمجھ پیدا کریں اور جب اپنی قوم کی طرف واپس
آئیں تو انہیں تنبیہ کریں تاکہ وہ (ہلاکت خیز باتوں سے) بچے رہیں۔ (التوبة:122)
تفقہ کا مطلب دلیلوں سے احکام کے استنباط کا علم ہے  ۔ اور انذار بھی اسی میں ہے جس کو انہوں نے سیکھا اور سمجھا ہے ۔ لذا واجب اور الزامی احکام بھی اس حکم میں داخل ہوں گے  جن پر ثواب اور عقاب کا وعدہ ہے ۔ اور حذر کو انذار کی غایت قرار دینے کا ظہور الزامی احکام کے فتوی کی حجیت میں ہے   ۔ اور باقی احکام میں بھی یہ حجت ہو گا کیونکہ واجب اور مستحب میں اس جہت سے  کوئی فرق نہیں ہے   ۔
 . اللہ فرماتا ہے : 
 فَاسأَلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمُونَ
اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔ 

اس کا ظہور یہ ہے کہ جاھل کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ عالم سے سوال کرئے ۔
اور سوال کے ارادے کا مطلب عمل کے لئے سوال کرنا ہے ۔ لذا جواب کی حجیت سے کاشف ہو گا ۔ 
 بہت ساری روایات علم کی فضیلت ۔اس کی تحصیل اور اس سے فائدہ اٹھانے اور علماء کی طرف رجوع کرنے کے بارے وارد ہوئی ہیں۔
جیسے امام علیہ السلام کی توقیع مبارک ہے ۔  
وأمّا الحوادث الواقعة فارجعوا فيها إلى رواة حديثنا؛ فإنّهم حجّتي عليكم وأنا حجّة الله عليهم
  رونما ہونے والے واقعات میں ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو ۔ وہ میرئ طرف سے تم پر
 حجت ہیں اور میں اللہ کی طرف سے ان پر حجت ہوں ۔ کمال الدین و اتمام النعمة ص 484 ۔
امام (عليه السلام):  نے فرمایا 
فأمّا من كان من الفقهاء صائناً لنفسه، حافظاً لدينه، مخالفاً على هواه، مطيعاً لأمر مولاه، فللعوام أن يقلّدوهج
ترجمہ   
اور ایک فقیہ کے لئے ان شراط کا حامل ہونا لازمی ہے تاکہ اس کی طرف رجوع صحیح ہو سکے ۔
شہید اول کی کتاب (الذكرى) میں ہے کہ فقیہ میں تیرہ شرائط کا ہونا لازمی ہے جن پر امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عمر بن حنظلہ کی روایت میں تنبیہ کی گئی ہے  ( امام علیہ السلام نے فرمایا تم اپنے میں سے اس کو دیکھو جو ہماری روایات بیان کرتا ہے ۔ اور ہمارے حالال و حرام کی سمجھ رکھتا ہے ۔ اور ہمارے احکام کی معرفت رکھتا ہے ۔ تو اس کو اپنا حاکم بنا لو ۔ کیونکہ میں نے اس کو تمہارا حاکم بنایا ہے ۔ اگر اس نے کوئی فیصلہ کیا اور اس کا فصیلہ قبول نہ کیا گیا تو اللہ کے حکم سے بے اعتنائی ہوئی ۔ اور ہمارے اوپر اس کو رد کیا گیا ۔ گویا کہ اللہ پر رد ہوا اور اللہ کا رد کرنا شرک ہے ۔اگر ہمارے راویوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے جو زیادہ عادل ۔ زیادہ فقیہ ۔ اور زیادہ سچا و پریزگار ہو گا اس کا حکم مانا جائے گا ۔
 ۔  1   پہلی شرط ایمان ہے ۔ :جس پر روایت میں مذکور لفظ (منكم)، دلالت کرتا ہے ۔ کیونکہ جو مومن نہیں ہے اس کی خبر پر تحقیق لازمی ہے جو کہ تقلید کے خلاف ہے ۔
 ۔  2 . دوسری شرط  عدالت  ہے ۔ جس پر امام علیہ السلام نے لفظ  (أعدلهما).کے ذریعہ اشارہ فرمایا ۔
 ۔  3 . قرآن مجید کا علم ہو ۔
 ۔  4 . سنت نبوی کا علم ہو ۔ اور اس میں اتنا علم کافی ہے جو فقہ کے استنباط میں ضرورت ہو ۔ 
 ۔  5 . علماء کے اجماع اور اختلاف کا علم ہو تاکہ اجماع کے خلاف فتوی نہ دے 
۔ علم کلام کا علم ہو ۔
 ۔  7 . اصول کا علم ہو ۔
 لغت  نحو ۔ صرف اور استدلال کی کیفیت یعنی منطق  کا علم ہو ۔ اس پر امام علیہ   السلام نے (وعرف  أحكامنا)؛ کے ذریعے اشارہ فرمایا ہے ۔ کیونکہ ان علوم کے بغیر احکام کی معرفت
 ۔   9 ۔ ناسخ و منسوخ ۔ محکم و متشابہ ۔ ظاہر و مؤول کا علم   مجمل مبین عام خاص کا علم ہو ۔:
 ۔ 10 ۔ جرح و تعدیل کا علم ہو ۔ اور اس میں پہلے علماء کی شہادت کافی یے ۔  جیسے رجال کی کتب ہیں ۔ کیونکہ زمانے کے گزر جانے کی وجہ سے تمام کو یاد رکھنا مشکل ہے ۔ 
 لفظ کی لغت ۔ عرف اور شرعا دلالت کا علم ہو ۔    
12 ۔ مخاطب سے قرینہ کے بغیر مقتضی کا علم ہو ۔اور قرینہ کے ساتھ مدلول کا علم ہو ۔اور یہ بات حکمت کے ثبوت پر موقوف ہے ۔
13 ۔ قوت حافظہ صحیح ہو ۔یعنی حافظہ نسیان پر غالب ہو کیونکہ اس کے بغیر احکام کو درک کرنا مشکل ہے ۔)  ذکری الشیعہ فی احکام الشریعہ ج 1 ص 42 ۔

Comments