- Get link
- X
- Other Apps
سوال
علمی اعتبار سے کونسا نظریہ مضبوط ہے ۔ خلقیت کا نطریہ یا تطور کا نظریہ ؟
جواب
نظریہ تطور کی بنیاد اس فرض پر ہے کہ دنیاوی حیات کی ابتداء ایک خلیہ سے ہوئی ۔ لیکن اس نظریہ میں اس خلیہ کی ابتداء کے بارے کوئی واضح تفسیر نہین ہے ۔
اور جو کچھ اس خلیہ کی تفسیر میں فرض کیا گیا ہے اس پر کوئی علمی دلائل نہیں ہیں ۔
مثلا سویسری عالم (إرينيوس) کہتا ہے کہ اس کائنات میں زندگی فضا میں ازل سے موجود میکروبات سے وجود میں ائی ۔ اور پھر زمین کی طرف ہجرت کی اور اس میں اچانک تطور آنا شروع ہو گیا ۔ جس کے نتیجہ میں زندگی کی مختلف انواع کے ساتھ یہ کائنات وجود میں ائی ۔
اور (لأرنست هيكل) نے کچھ مختلف تفسیر پیش کی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اس کائنات کا تطور غیر عضویہ مواد سے عضوی مواد میں ہوا ۔ اور وہاں سے ایک خلیہ والی یہ کائنات وجود میں ائی ۔ اور پھر ساری کائنات میں تطور وجود میں ایا ۔
نظریہ تطور میں زیادہ اختلاف انواع کے تطور میں پایا جاتا ہے
یعنی بعض کے نزدیک ایک نوع میں وقت کے ساتھ ساتھ اتنا تطور ممکن ہے کہ وہ دوسری نوع میں تبدیل ہو جائے ۔ لیکن اس قسم کے تطور پر کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے ۔
اس لئے تقریبا محققین کے نزدیک یہ تطور مشکوک ہے ۔ اور جو مثالیں پیش کی گئی ہیں وہ جدید علمی موازین پر پوری نہیں اترتیں ۔
اجمالی طور نظریہ تطور کی جو بات قابل قبول ہو سکتی ہے وہ اس زندہ کائنات کی ظروف اور حالات کے اعتبار سے نشو و نما کی کیفیت ہے ۔ لیکن یہ تفسیر اس کائنات کی مختلف انواع کے نشو و نما کی کامل تفسیر بیان نہیں کر سکتی ، لذا یہ کہنا درست ہے کہ تطور کا نظریہ علمی دلائل اور برھان سے خالی ہے ۔
اسی وجہ سے علمی برھان کے بغیر نظریہ تطور کو دینی تفسیر کا بدیل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
جس دینی تفسیر میں بتایا گیا ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک خالق اور مبدع ہے جا نے اپنی مرضی سے اس کائنات کو وجود دیا
اور اس دینی نظریہ پر عقل اورمنطق دونوں منسجم ہیں ۔کیونکہ عقل یہ کیسے قبول کر سکتا ہے کہ یہ کائنات اور اس پر یہ حیات لاشیئ سے وجود میں ائی ہو؟
قرآن میں انسان کی خلقت کا قضیہ واضح طور پہ بیان ہوا ہے ۔اللہ تعالی نے جناب آدم اور حواء کو خلق فرمایا ۔ اور پھر ان کی شادی ہوئی اور ان سے بشر کی نسل چلی ۔
اور جدید علمی تحقیق اس نظریہ کے متعارض نہیں ہے ۔ بلکہ اس کی تاکید کرتی ہے ۔
انسان کے جینوم پر علمی و سائنسی تحقیق ہوئی ہے جب مختلف مناطق سے انسان کے ڈی این اے D NA ) کے نمونے جمع کیے گئے ہیں ۔ اور پھر ان کی تحلیل کی گئی ہے اور ان کو تاریخی تسلسل سے ربط دیا گیا ہے تاکہ انسان کی اصل کی معرفت حاصل ہو سکے ۔ اور ان سے قطعی نتائج یہ حاصل ہوئے ہیں کہ تمام بشر کا ایک ہی باپ اور ایک ہی نسل ہے ۔ اور محققین نے اس کو وراثتی شجرہ کا نام دیا ہے ۔ جس میں موجودہ تمام انسانوں کی ایک ہی نسل کی طرف اشارہ ہے
سنہ 2013، میں "Science" میگزین میں یہ تحقیق شائع ہوئی کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس زمین پر ہر انسان میں وہ اصول پائے جاتے ہیں جو ایک ایسے ادمی کی طرف جاتے ہیں جو اس زمین پر تقریبا 135000 سال پہلے زندگی گزار چکا ہے ۔ اور اس تحقیق میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اس قدیم انسان کے ساتھ اسی زمانے میں ایک خاتون نے بھی زندگی گزاری جس کو تمام خواتین کی ماں کا درجہ دیا جاتا ہے ۔ اور ان کا سائنسی نام آدم كروموسوم Y اور حواء الميتوكوندريا. رکھا گیا ہے ۔
سائنسی اور دینی نظریہ میں اس توافق سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل ایک ادمی اور ایک خاتون کی طرف جاتی ہے ۔ جنہوں نے آپا میں شادی کی اور زمین پر موجودہ بشریت کی بنیاد رکھی ۔
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment