رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کی شہادت ۔


سوال 

 کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ زہر سے شہید کئے گئے ؟ 

جواب

 نبی اعظم صلی اللہ علیہ و الہ کی وفات کی مناسبت سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا رسول اکرم طبیعی طور پہ فوت ہوئے یا ان کو عمدا شہید کیا گیا ؟ 

فریقین (  شیعہ اور سنی ) کے ہاں صحیح روایات پائی جاتی ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ کو زہر سے شہید کیا گیا 

ان روایات میں سے ایک الحاکم النیشاپوری نے اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین میں داود بن یزید الاودی سے ایسی سند سے روایت کی ہے کہ اس سند پر الذھبی نے کوئی تعلقیہ نہیں لگایا ۔ 

راوی کہتا ہے میں نے الشعبی سے سنا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کو زہر دیا گیا ، جناب ابو بکر صدیق کو زہر دیا گیا ، جناب عمر بن خطاب قتل کئے گئے ، جناب عثمان بن عفان قتل کئے گئے ۔ امام علی علیہ السلام قتل کئے گئے ۔ امام حسن علیہ السلام کو زہر دیا گیا اور امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا گیا ۔ تو ان کے بعد کیا امید کی جا سکتی ہے ۔ 

ان روایات میں سے ایک احمد نے اپنی مسند میں ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے چیزیں چھوڑی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کو قتل کیا گیا ۔ اور مجھے پسند ہے ان میں سے ایک چیز چھوڑ جاوں کہ وہ قتل نہیں ہوئے ۔ کیونکہ اللہ نے ان کو نبی بنا کر بھیجا اور ان کو شہید قرار دیا ۔ 

الھیثمی نے مجمع الزواید میں اس روایت کے ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کو احمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے اور اس کے سب راوی صحیح ہیں ۔ 

لذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کا زہر سے شہید ہونا مسلم امر ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس نے اپ کو زہر دیا اور اپ شہید ہو گئے ؟ 

بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ اپ اس زہر کی وجہ سے شہید ہوئے جو سات ہجری کو قلعہ خیبر میں ایک یہودی عورت نے کھانے میں  زہر دیا تھا ۔ 

لیکن یہ کچھ اسباب کی وجہ سے بعید ہے ۔ 

1 بہت ساری روایات میں ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ والہ نے اس کھانے میں سے کچھ بھی نہیں کھایا کیونکہ اپ کو وحی کے ذریعے اس کی خبر پہلے سے ہی دے دی گئی تھی ۔ دوسرا اس کھانے اور اپ کی وفات کے درمیان عرصہ بہت ہے کیونکہ خیبر کا واقعہ 7 ہجری کو پیش ایا اور 11 ہجری کو فوت ہوئے ۔ اور بشر بن براء جس نے اس زہر الود کھانے سے کھایا تھا اسی وقت فوت ہو گیا کیونکہ وہ بہت سخت قسم کی زہر تھی  ۔ 

لذا یہ احتمال کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ اسی کھانے سے شہید ہوئے ہیں بہت بعید ہے ۔ 

لذا ہمیں اور دلیلوں میں غور کرنا پڑے گا کہ اپ کیسے شہید ہوئے ۔ 

روایات میں تحقیق کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک روایت ہے جس میں عجیب و غریب واقعہ  اپ کی وفات سے پہلے پیش ایا ۔ کہ آپ کو بیماری کی حالت میں ایک دواء زبردستی پلائی گئی جبکہ اپ نے سختی سے منع کیا تھا کہ ان کی بے ہوشی میں انہیں کوئی دوا نہ پلائی جائے ۔ لیکن انہوں نے آپ کو وہ دواء زبردستی پلا دی ۔ اب اپ اس روایت میں خود غور کریں ۔ 

البخاری نے جناب عائشہ سے روایت کی یے کہ ( لددنا فی مرضہ فجعل یشیر الینا ان لاتلدونی فقلنا کراھیةالمريض لدواء . فلما افاق قال الم انهاكم ان تلدوني قلنا كراهية المريض الدواء )

جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے آپ کی بیماری میں ان کے منہ میں دواء ڈالی جبکہ اپ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن ہم سمجھے کہ مریض دواء کو ناپسند کرتا ہے ۔ جب اپ کو افاقہ ہوا تو اپ نے فرمایا کیا میں نے منع نہیں کیا تھا کہ مجھے کوئی دواء نہ پلانا تو ہم نے کہا مریض دواء کو ناپسند کرتا ہے ۔" 

ابن حجر عسقلانی نے فتح باری میں اس روایت کی تفسیر میں کہا یے کہ لددناہ کا مطلب ہے کہ ہم نے اس کے منہ کے ایک طرف ان کے اختیار کے بغیر دواء ڈالی ۔ اس کو لدود کہا جاتا ہے ۔ 

اس روایت میں واضح ہو رہا ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ و الہ کو ان کی بیماری کی حالت میں کوئی دوائی پلائی گئی جس سے اپ نے منع کیا تھا ۔ اور یہ کام آپ کی غشی کے دوران ہوا کیونکہ اسی روایت میں ہے کہ جب اپ کو افاقہ ہوا تو اپ نے کہا کیا میں نے منع نہیں کیا تھا کہ مجھے کوئی دوائی نہ پلانا ۔ 

یہاں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ ان لوگوں نے رسول اکرم کے منع کرنے کے باوجود اپ کو دوائی کیوں پلائی ۔ 

کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ مسبب اور اسباب کے قائل نہیں تھے ۔جب اپ ایسی دوا سے کیوں انکار کریں جس میں ان کی بیماری کا علاج ہو ۔ جبکہ اپ جانتے ہیں کہ ہر بیماری کی دواء ہے ۔ 

اور اپ صلی اللہ علیہ و الہ کو دوسرے لوگوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اپ کسی بھی حالت میں مضطرب نہیں ہو سکتے اور نہ ھذیان کہ سکتے ہیں چاہئے اپ مریض ہو ں یا صحت مند ۔ دینی امر یو یا دنیاوی امر ہے ۔ آپ حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ۔

اور قران مجید نے صراحتا اپ کی مطلقا اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ اللہ فرماتا ہے ( اطيعوا الله و اطيعوا الرسول ) . فرمايا . ( ما اتاكم الرسول فخذوه و ما نهاكم عنه فانتهوا ) فرمايا ( ما ينطق عن الهوي ان هو الا وحي يوحي ) 

خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ نے فرمایا جس کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے صحیح حدیث میں نقل کیا ہے کہ جب قریش نے اسے ہر چیز کے لکھنے سے منع کیا  کیونکہ اپ بھی انسان ہیں اور اپ  غصے کی حالت میں بھی کچھ کہ سکتے ہیں ۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ نے فرمایا تم لکھا کرو مجھ اس کی قسم جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا یے مجھ سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا ۔ 

اور مذاق میں بھی اپ حق کے علاوہ کچھ نہین کہتے ۔ آپ سے روایت ہے کہ اپ بعض صحابہ سے مذاق کہ رہے تھے تو اس نے کہا کیا رسول اکرم بھی مذاق کہ سکتے ہیں تو اپ نے فرمایا میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ۔ مبارک فوری اس حدیث کے بارے لکھتے ہیں کہ اپ حق کہتے ہیں یعنی سچ اور عدل بولتے ہیں کیونکہ اپ اپنے قول و فعل میں  معصوم ہیں ۔ کوئی اور اس کام پہ قادر نہیں ہے کیونکہ وہ معصوم نہیں ہے ۔

جو کچھ اوپر بیان ہو چکا ہے اس کی روشنی میں ہم رسول اکرم کو ان کی بیماری میں ان کے مرضی کے خلاف دوا پلانے کا کوئی شرعا اور عقلا عذر قبول نہیں کرتے ۔ یہ واقعا ایسی عجیب جراءت ہے جس کے پیچھے بہت سارے سوالات ہیں ۔ 

جب ان سوالوں کو عقبہ کی رات والے واقعے کے ساتھ جوڑا جائے تو سب کچھ واضح ہو جاتا ہے کہ امت رسول آپ کی شہادت کے درپے تھی ۔ 

جناب حذیفہ یمانی علیہ السلام ان میں سے کچھ کے جنازے پر بھی نہیں گئے کیونکہ اپ ان منافقین کے نام اور حلیے جانتے تھے جنہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کو عقبہ کی رات قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ اور جناب حذیفہ کا ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنے میں مسلمانوں کے لئے ان لوگوں کی معرفت کا ذریعہ ہے ۔ 

ابن حزم نے ذکر کیا ہے کہ حذیفہ نے بعض صحابہ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔ جیسے المحلی ج 11 ص 225 پر وارد ہوا ہے  اور ابن عساکر نے کہا ہے کہ حذیفہ نے فلاں صحابہ پر نماز جنازہ نہین پڑھی ۔ مختصر تاریخ دمشق ج 6ص 253 ۔ 

اور سیرت نگاروں اور مورخین کی عادت رہی ہے کہ وہ صحابہ میں مہم شخصیت کے بارے اہم خبر چھپاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا ذکر کرنا قابل برداشت نہیں ہوتا ۔ 

اس کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کی وفات سے چند دن پہلے جمعرات کے دن کی مصیبت کو کون بھول سکتا ہے ۔ جس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ کو معنوی اور نفسیاتی طور پر اذیت دی گئی ۔ ایسے واقعات میں غور کرنے سے سب کچھ واضح ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کی نیت میں کسی قسم کے شک اور شبھہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ لا حول ولا قوة الا بالله . 

عظم الله أجوركم بشهادة النبي الاعظم صلي الله عليه و أله .

Comments

Post a Comment